گٹکے والوں کی ضمانت نہیں ہوگی لیکن اسٹریٹ کرمنلز کو آزادی ہے

سندھ حکومت کے گذشتہ 11 سال کے دورِ حکومت اور ان کے فیصلوں کا مشاہدہ کیا جائےتو اس پر سوائے ہنسی اور مایوس کُن تعجب کے دوسرا کوئی ردعمل نہیں دیا جاسکتا، کراچی میں کچرے کو ٹھکانے لگانے کا معاملہ ہی دیکھ لیں، کہ سندھ کابینہ بلدیاتی اداروں کےاختیارات اپنے ہاتھ میں لینے پر تو انتہائی مستعد نظر آئی لیکن بلدیاتی مسائل کے حل کی جب بھی بات آئی تو سارا ملبہ میوسپل اداروں پر ڈال دی جاتی ہےء جن کے پاس نہ اختیار بچا نہ فنڈز جمع کرنے کا کوئی راستہ کہ وہ کریں تو کیا کریں۔

اسی طرح کراچی جیسے بین الاقوامی شہر میں اسٹریٹ کرمنلز کو قابو کرنے کی بات آتی ہے تو صوبائی حکومت کی مجرمانہ کاموشی اورپولیس سربراہ کے اپنے ہی گھر والوں کے لٹنے کے شرمناک بیانات سامنےآتے ہیں کیاعوام اسی طرح کےردعمل کے مستحق ہیں، کیا اسٹریٹ کرمنلز کو عوام کو جب اور جہاں چاہیں لُوٹنے کی اجازت ہے اس حوالے سے پولیس اوررینجرز کوکیوں اپنا کردار ادا کرنے اور عوام کی جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایات اور مطلوبہ سہولیات دی جاتیں ، اس بات کا جواب سندھ حکومت کے پاس نہیں ہے۔

دوسری جانب بات آتی ہے گٹکا مافیا کے خلاف کارروائی کی تو ایسا لگتا ہے پوری سندھ حکومت ہی اس کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے،یہ اچھی بات ہےگٹکےکی تیاری اوراستعمال دونوں ہی انسانی صحت کیلئے خطرناک ترین ہیں اور اب تو سندھ کی عدالتوں نے گٹکے کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کی ضمانتیں بھی مسترد کرتے ہوئے اس جرم کو ناقابلِ ضمانت قراردیدیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا مافیا کے خلاف مقدمات میں دفعہ 337-J کا اضافہ کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ملزمان کے خلاف درج مقدمات میں ناقابل ضمانت دفعہ کا اضافہ کردیا گیا ہے۔گٹکا مافیا کے خلاف ناقابل ضمانت دفعہ لگنے کے بعد کراچی کے چار اضلاع میں ایک ہفتے کے دوران گٹکے کے کیس میں 160 سے زائد ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کردی گئیں۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کینسر جیسی خطرناک بیماری کا سبب بننے والے ضمانتوں کے حقدار نہیں، خطرناک اشیا فروخت کرنے والوں کو 10 سے 14 سال قید بامشقت ہوسکتی ہے۔

یہ احسن اقدام اپنی جگہ اورشہرمیں گٹکا مافیا کے خلاف کارروائی کیلئے رینجرز کو بھی خصوصی ٹاسک سونپ دیا گیا ہے، لیکن یہ سوال بدستور اپنی جگہ رہے گا کہ گٹکا تیاری اور فروخت کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی سے گٹکا کھانے والا بیماریوں سے تو محفوظ ہوجائے گا لیکن جو گٹکا نہ کھانے والے لاکھوں افراد ہیں وہ اسٹریٹ کرمنلز کے ہاتھوں شہر کی کسی بھی سڑک یا گلی بلکہ اپنے گھر کے دروازے پر لٹنے اور گولی کھانے سے کیسے محفوظ رہ سکیں گے۔۔۔؟؟

 

 

Share This Article

تازه ترین