افغانستان دھماکہ: جاں بحق افراد کی تعداد 66 ہوگئی

افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں جمعے کی نماز کے دوران مسجد میں بم دھماکے سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 66 افراد ہوگئی ہے جبکہ درجنوں شدید زخمی ہیں۔ یہ مسجد صوبائی دارالحکومت جلال آباد سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پرہے۔ جمعے کو ہونے والا دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے عمارت کی چھت اڑ گئی۔ تاحال کسی تنظیم نے اس بم دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس حملے سےایک روز قبل ہی اقوام متحدہ نےکہا تھا کہ رواں سال موسم گرما میں اس جنگ زدہ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے جس کی یہاں پہلے مثال نہیں ملتی۔ اقوام متحدہ کے مطابق جولائی اور ستمبر کے درمیان 1174 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ادارے کے مطابق، 10 سال کے دوران جب سے ریکارڈ رکھا جا رہا ہے، اتنی بڑی تعداد اتنی مدت میں پہلے نہیں دیکھی گئی۔ گزشتہ ماہ بی بی سی کی ایک تحقیق کے مطابق،جس میں اگست کے مہینے میں ہونے والی ہر ہلاکت کوریکارڈ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تمام ہلاکتوں کا 20 فیصد عام شہری تھے۔

مسجد دھماکےکے حوالے سےعینی شاہدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد مسجد کی چھت تباہ ہوگئی۔ افغانستان کی خبر رساں ویب سائٹ طلوع نیوز کے مطابق مانا جا رہا ہے کہ اس حملے میں کئی بم استعمال کیے گئے۔ مقامی قبائلی سردار ملک محمد گُل شنواری نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘یہ دلخراش منظر تھا جو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ ایک مقامی پولیس افسر نے بتایا کہ پہلےاسپیکر سےمولوی کی تقریر کی آواز آ رہی تھی لیکن پھر ایک دھماکے کی گونج کے ساتھ خاموشی چھا گئی۔

 

 

Share This Article

تازه ترین