جے یو آئی کی حکومت سے مذاکرات کرنے پر آمادگی اور منسوخی

اس حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے جے یو آئی (ف) سے پہلا باضابطہ رابطہ کیا، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے عبدالغفور حیدری کو ٹیلی فون کر کے ملاقات کا وقت طے کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی کمیٹی سے رات 8 بجےپارلیمنٹ لاجز میں عبدالغفور حیدری کی رہایش گاہ پرملاقات طے ہوئی لیکن اس کے چند گھنٹوں بعد ہی جے یو آئی نے مزاکرات ملتوی کرتے ہوئے اپوزینن پارٹیوں پر مشتمل رہبر کمیٹی کا اجلاس 22 اکتوبر کو طلب کرلیا ہے جس میں مشاورت کی جائے گی کہ حکومت سے مزاکرات کیئے جائیں یا نہیں۔

مذاکرات کی منسوخی یا التوا کے بعد صورتحال دوبارہ سے اسی نیج پر پہنچ چکی ہے جہاں چند روز قبل تھی اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم آتی ہے تو ان سے بات کرنے کو تیار ہیں، دیکھیں گے کہ حکومت کہاں تک ہماری بات سنتی ہے۔کمیٹی کے اہم رکن نورالحق قادری نے کہا ہے کہ حکومت کو کوئی گھبراہٹ نہیں، اسلام آباد پرسکون ہے، مولانا کے مطالبات سنیں گے اور جائز چیزوں پر غور کیا جائے گا، پُر امن دھرنا یا احتجاج والوں کو ہر سہولت فراہم کریں گے، جو بد نظمی پھیلائے گا اس سے اسی طرح نمٹا جائے گا۔

انھوں نے کہا کچھ لوگ آگ اور شعلے، کچھ پھول اور شہد کی باتیں کرتے ہیں، بات چیت کر کے مولانا کو راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔واضح رہے کہ جامعہ بنوریہ نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کی مخالفت کر دی ہے، مفتی نعیم کا کہنا ہے کہ دینی طلبہ کو سیاست میں استعمال نہ کیا جائے، اس سے دنیا میں اچھا تاثر نہیں جائے گا، مدارس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، دینی مدارس غیر سیاسی ہوتے ہیں۔

دوسری جانب جے یو آئی کی جانب سے ڈنڈا بردار فورس کی وڈیو اورتصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیئےجانےکا سب سے بڑا فائدہ بھارت نے اٹھایا اور اس حوالے سےبھرپور پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کے ہتھیار بند عسکری ونگ موجود ہیں جوانتہاپسندی اوردہشت گرد کارروائیاں کرتےہیں اس حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر اور وڈیوز اس وقت شیئر کیئے گئے جب فرانس میں ایف اے ٹی ایف کا اہم اجلاس جاری تھا اورممکن تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے بھی نکال کر گرین سگنل دیا جائے لیکن کچھ رکن ممالک کی جانب سے ڈنڈا بردار کارکنان کی تصاویر اور وڈیوز کو جواز بنا کر پاکستان کو مزید 4 ماہ تک گرے لسٹ میں رکھنے کا بہانہ انھیں مل گیا۔

Share This Article

تازه ترین