بریگزٹ میں تاخیریا  توسیع ، بورس جانسن چاہتے کیا ہیں۔۔؟؟

برطانوی پارلیمان میں یورپی یونین سے انخلا میں توسیع کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم بورس جانسن نے بریگزٹ میں تاخیر کے لیے یورپی یونین کو تحریری طور پر درخواست بھیج دی ہے،وزیر اعظم کی جانب سے لکھی گئی اس درخواست پر ان کے دستخط نہیں ہیں، اس درخواست کے بعد بورس جانسن نے یورپی یونین کو ایک اور خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کےخیال میں بریگزٹ میں تاخیر ایک غلطی ہو گی۔

ہفتےکو بریگزٹ میں تاخیر کی قرارداد دارالعوام کے آزاد رکن سر اولیور لیٹون نے پیش کی تھی اور پارلیمان کے 322 ارکان نے اس کی حمایت جبکہ 306 نے مخالفت کی تھی۔ قانون کے تحت دارالعوام سے قرارداد کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم یورپی یونین کو بریگزٹ کی 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے درخواست کرنے کے پابند تھے۔

یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بعدازاں ایک ٹویٹ کے ذریعے برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔ انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اب وہ یورپی یونین کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے کہ ‘اس پر کیا ردِعمل دیا جائے۔’ دارالعوام سے شکست کے بعد وزیر اعظم نے ایک سینیئر سفارت کار کو قرارداد کی غیر دستخط شدہ کاپی بھیجنے کو کہا۔

وزیر اعظم کی جانب سے بھیجے گئے خط میں یورپی یونین کے رہنماؤں کو کہا گیا ہے کہ وہ ممبران پارلیمان کو اپنا فیصلے پر نظر ثانی کرنے کا کہیں اور وقت ضائع کرنے کے بجائے اس ڈیل پر ووٹ کرنے کا کہیں جو پہلے ہی برطانیہ اور یورپی یونین میں طے پا چکی ہے۔ اس سے قبل وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ یورپی یونین کو بریگزٹ کی 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کی درخواست کرنے کے بجائے کھائی میں گر کر مرنا پسند کریں گے۔

مبصرین وزیر اعظم کی جانب سے یورپی یونین کو تین الگ الگ دستاویزات بھیجنے کے فیصلے کو ‘متنازعہ’ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس بارے میں لڑائی ہوگی کہ آیا بورس جانسن عدالت کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ معاملہ سیدھا عدالت جا رہا ہے، اورہوسکتا ہےکہ جلد ہی یہ سپریم کورٹ پہنچ جائے۔

دوسری جانب وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا ہےکہ وہ یورپی یونین سے انخلا کے حوالے سے اپنے منصوبے پر بے خوفی سے عمل درآمد کرتے رہیں گے۔برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ہفتے پارلیمان میں ایک نیا قانون متعارف کراوئیں گے تاکہ ان کے معاہدے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

اس قرارداد کےتحت بورس جانسن کی یورپی یونین سےانخلا کی ڈیل کو اس پرعمل درآمد کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی تک ’روکا‘ جا سکے گا۔ اُدھر یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اب یہ برطانیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے ’اگلے مراحل کے حوالے سے آگاہ کرے۔‘

Share This Article

تازه ترین

کشمیر میں لوٹس اسٹیم کی کٹائی