افغانستان: طالبان سے جھڑپوں میں 16 پولیس اہلکار ہلاک

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے قندوز کے ضلع علی آباد میں طالبان کی جانب سے گذشتہ رات سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کیا گیا۔افغان پولیس کی جانب سے کئی گھنٹے تک طالبان کا مقابلہ کیا گیا تاہم اس دوران چیک پوسٹ کے نگران کمانڈر سمیت 16 پولیس اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوگئے، حکام کے مطابق طالبان کو بھی اس لڑائی میں جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

کچھ روز قبل ہی یورپی یونین نے افغانستان میں مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے امن مذاکرات کی بحالی کا کہا تھا تاہم طالبان کی جانب سے آئے روز حملوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے جبکہ امریکی وزیر دفاع نے بھی اچانک افغانستان کا دورہ کرکے مزید 8 ہزار امریکی فوجیوں کے انخلاء کی بات کی تھی تاہم افغانستان مین امن کی کوششیں تاحال ناکم نظر آتی ہیں۔

افغان طالبان کےترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےچیک پوسٹ پرحملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ افغانستان کے شمالی صوبہ قندوز میں طالبان کا کافی اثرو رسوخ ہے اور صوبے کے متعدد اضلاع طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔تزویراتی( اسٹریٹیجک) اہمیت کے باعث قندوز پرمکمل قبضے کیلئے افغان طالبان کی جانب سے کافی عرصے سے کوششیں کی جارہی ہیں۔

افغانستان کے آدھے رقبے پر طالبان کا قبضہ ہے اور طالبان کی جانب سے تقریباً روزانہ ہی سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے جاتے ہیں جن میں بڑی تعداد میں دونوں طرف سے جانی نقصان ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے گذشتہ 3 ماہ میں افغانستان میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔  اقوام متحدہ  کا کہنا ہے کہ  افغانستان میں ہونے والے بم دھماکوں اور دیگر واقعات میں سیکیورٹی فورسز اور طالبان سے زیادہ عام شہریوں کی ہلاکتیں ہورہی ہیں۔

 

Share This Article

تازه ترین