امریکا کے سائنسدانوں کی ٹیم نے جین کی درستگی اور ترمیم کے استعمال کے لئے نئی ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے جسے پہلے سے موجود آلات سے زیادہ محفوظ اور بااعتماد ”جینیاتی ورڈ پروسیسر“قرار دیا جا رہا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے جینیاتی کوڈ کو درست طریقے سے تحریر کرنے کی قابلیت ملے گی جبکہ ضابطہ حیات میں ترمیم کرنے کا نیا طریقہ ہے۔

امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس طریقےسے ڈی این اے میں 89 فیصد غلطیوں کودرست کیا جاسکتا ہے کہ جو بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک ورسٹائل ٹیکنالوجی ہے لیکن ابھی صرف اس ٹیکنالوجی پر تحقیق شروع کی ہے۔اس سے قبل چینی سائنس دانوں نے بھی جین کی درستگی اور ترمیم کے استعمال کے لیے نیا آلہ ایجاد کیا تھا جسے ’جین ایڈیٹنگ ٹول‘ قرار دیا گیا تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے