ذرائع کے مطابق حکومت نے آزادی مارچ کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے مارچ کی اجازت سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلوں پر عمل سے مشروط کردی۔ مولانافضل الرحمان کے آزادی مارچ کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات ہوئی اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کمیٹی کو اپوزیشن سےمذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت کرتےہوئے کہا اسلام آباد میں احتجاج سےمتعلق عدالتوں کےفیصلے موجود ہیں ،عدالتی فیصلوں پرعمل سےمتعلق حکمت عملی وزارت داخلہ طے کرے گی۔ملاقات کے دوران پرویزخٹک کی سربراہی میں کمیٹی نے اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں پروزیراعظم کو اعتماد میں لیا اور مذاکرات میں اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔
گذشتہ روز ایوان صدر میں حکومتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا ، جس میں قائم مقام صدرصادق سنجرانی وفاقی وزراء پرویز خٹک شفقت معمود اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت کمیٹی کے دیگرارکان شریک ہوئےتھےاجلاس میں آزادی مارچ اور اپوزیشن سے رابطوں کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ حکومتی کمیٹی کے ارکان اپوزیشن رہنماؤں سےملاقات کریں گے اور اپوزیشن رہنماؤں سےانفرادی طورپررابطے کیے جائیں گے۔

دوسری جانب رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا تھا کہ حکومت پہلے واضح اعلان کرے کہ آزادی مارچ میں کوئی رخنہ نہیں ڈالا جائے گا تو پھر رابطہ کرے،ہم جواب دیں گے، اکرم درانی کا کہنا تھا کہ مذاکراتی کمیٹی نے ان سے خود رابطہ کیا تھا انھیں واضح کردیا گیا کہ ملاقات جب بھی ہوگی وہ رہبر کمیٹی کے رہنماوں کے ہمراہ ہوگی اور رہبر کمیٹی کے فیصلے کے بغیر مولانا فضل الرحمان بھی پرویز الہٰی سمیت کسی سے نہیں ملیں گے۔
اکرم درانی کے مطابق ہم نے نہیں بلکہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے خود رابطہ کیا تھا کیونکہ مسئلہ اور پریشانی انھیں ہے ہمیں نہیں، اُدھر تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت نے آزادی مارچ کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کرکے عقلمندی کا ثبوت دیا ہے اگرچہ یہ فیصلہ تاخیر سے ہوا اور شروع میں حکومتی مخالفت نے آزادی مارچ کے غبارے میں ضرورت سے زیادہ ہوا بھر دی لیکن پھر بھی ابھی وقت گذرا نہیں اب بال اپوزیشن کی کورٹ میں آچکی ہے اور انھوں نے ذرا بھی غلط قدم اٹھایا تو ملک کی عوام اس آزادی مارچ کی مخالف ہوجائے گی۔