جو لوگ اب تک یہ پوچھ رہے ہیں کہ آیا یکم نومبر کو برطانیہ یورپی یونین کا رکن نہیں ہو گا، ان کے لیے جواب یہ ہے کہ 31 اکتوبر کو ختم ہونے والی بریگزٹ کی موجودہ ڈیڈ لائن پر عمل درآمد لندن حکومت کے لیے بریگزٹ کے معاہدے کے ساتھ تو اب ناممکن ہے۔ تاہم بغیر کسی ڈیل کے، جسے ‘نو ڈیل بریگزٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، برطانیہ اب بھی رواں ماہ کے آخر پر یورپی یونین سے نکل سکتا ہے۔ لیکن یہ بات بھی یقینی نہیں بلکہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ ‘شاید‘ کا لفظ ہی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یورپی یونین کی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے اب اس بلاک کی رکن ریاستوں کو یہ سفارش کر دی ہے کہ وہ بریگزٹ کی موجودہ مدت میں ایک بار پھر توسیع پر راضی ہو جائیں تاکہ یوں برطانیہ کو ‘نو ڈیل بریگزٹ‘ سے روکا جا سکے۔
اس سلسلے میں ڈونلڈ ٹسک نے ایک ٹویٹ میں اپنی اس سفارش کی بنیاد برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے منگل بائیس اکتوبر کی رات کیے گئے اس اعلان کو بنایا کہ بریگزٹ سے متعلق قانون سازی کا عمل اب سرد خانے میں ڈال دیا گیا ہے۔
ساتھ ہی ڈونلڈ ٹسک نے یہ تجویز بھی دی کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے رہنما اس بارے میں اپنا فیصلہ تحریری طور پر کریں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پھر رکن ممالک کی سیاسی قیادت کو بریگزٹ سے متعلق اپنے فیصلے کے لیے اس بلاک کی کسی خصوصی سربراہی کانفرنس کے انعقاد کی ضرورت نہیں ہو گی۔
وزیر اعظم بورس جانسن کے کل رات کیے جانے والے اعلان کی وجہ لندن میں پارلیمانی ایوان زیریں کی طرف سے اکثریتی رائے سے کیا جانے والا یہ فیصلہ بنا تھا کہ بریگزٹ کے لیے بہت تیز رفتار پارلیمانی فیصلہ سازی نہ کی جائے۔ دارالعوام کا یہ فیصلہ وزیر اعظم جانسن کے لیے ایک اور بہت بڑی سیاسی شکست تھا۔
