وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی کہ نوازشریف پاکستان میں جہاں چاہیں علاج کی سہولت فراہم کی جائے اور مریم نواز کی ملاقات کیلئے بھی قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد انتطامات کرائے جائیں انھوں نے نواز شریف کی صحت کےحوالےسے رپورٹ بھی طلب کرلی ہے۔ دوسری جانب معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا وزیراعظم نے نوازشریف کی صحتیابی کیلئے دعا اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی صحت کی تفصیلات طلب کی ہیں اور ہدایت دی ہیں۔
اُدھر محکمہ داخلہ نے آئی جی کو نواز شریف کی سیکیورٹی بڑھانے کی ہدایت کی ہے جبکہ اسپتال کے وی آئی پی کمرےکو سب جیل قراردیا گیا ہے، جہاں پولیس کی اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق مریم نوازکو ان کے والد نواز شریف سے ملنے کے لیئے قانون کے تحت 2 گھنٹے کیلئے پیرول پر رہائی دے کر سروسز اسپتال پہنچا گیا ۔جہاں ان کی ملاقات نواز شریف سے ہوئی ہے ،جس کے بعد تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مریم نواز کی بھی طبیعت خراب ہوگئی جس کے بعد انھیں سروسز اسپتال میں ہی نواز شریف کے سامنے والا کمرہ دیا گیا ہے جہاں انھیں داخل کرلیا گیا ہے۔ بدھ کی صبح عدالت نے مریم نواز کی والد نواز شریف سے ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے جسمانی ریمانڈ میں تین روز کی توسیع کردی تھی۔ تاہم قانون میں پیرول کی گنجائش موجود ہے جس کے تحت لیگی رہنماوں کی درخواست پر وزیراعظم نے مریم نواز سے ان کے والد کی ملاقات کروانے کی ہدایات جاری کیں۔
سروسز اسپتال میں زیرعلاج سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبیعت بدستور خراب بتائی جارہی ہے ، میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسرمحمودایاز کاکہناہے نواز شریف کے مزید بلڈ ٹیسٹ کرائے ہیں،رپورٹ آئے گی تو پلیٹ لیٹس کا پتہ چلےگا، پلیٹ لیٹس کم ہونے کی وجوہات کا جائزہ لے رہےہیں، اسپتال ذرائع کےمطابق نوازشریف کوپلیٹ لیٹس کی چھٹی میگا کٹ لگائی گئی تھی، جس کے بعد پلیٹ لیٹس سیلز کی تعداد میں اضافہ ہوا، پلیٹ لیٹس میں غیرمعمولی کمی کی وجہ خون پتلا کرنے والی دواؤں کو قرار دیا گیا تھا، جو بند کردی گئیں ہیں۔
بعد ازاں کراچی سے طلب کیئے گئے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے ماہر ڈاکٹر طاہر شمسی نے نواز شریف کا معائنہ کیا اور انھوں نے مرض کی تشخیص کرلی ہے جس کے بعد دوائیں تجویز کردی گئی ہیں ، ڈاکٹر طاہر شمسی کا کہنا ہے کہ جلد ہی میاں نواز شریف کی حالت بہتر ہوجائے گی۔