ماہر ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نواز کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے مرض کی تشخیص مکمل کرلی گئی ہے۔ ٹیسٹ رزلٹس اور ڈاکٹروں کی مشاورت کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں آئی ٹی پی کا مرض لاحق ہے۔ اس سلسلے میں نواز شریف کا علاج شروع کر دیا گیا ہے اور فی الحال انھیں بیرون ملک منتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ڈاکٹرز نے انھیں اس دوران دانت برش کرنے یا شیو کرنے سے منع کر دیا ہے کیونکہ اس صورت میں اخراج خون ہو سکتا ہے جسے پلیٹیس کی کم تعداد کی وجہ سے روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
میڈیکل بورڈ کے مطابق آئی ٹی پی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کے مدافعتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں ضرورت سے زیادہ خون بہتا ہے اور پلیٹلیٹس کی کمی ہوجاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں خلیے خاص طور پر اس کی وجہ سے خون میں موجود پلیٹلیٹس خود بخود ختم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ نوازشریف کا علاج شروع کر دیا گیا ہےاورانھیں اس مرض کا دفاع کرنےاورمدافعتی نظام مضبوط بنانے کے لیےانجکشن دیےجا رہےہیں جس کامثبت ردعمل دیکھنےمیں آیا ہے۔ آئندہ دو تین روز نواز شریف کا یہی علاج جاری رکھا جائے گا۔ جبکہ نواز شریف بھی اپنے علاج سے مطمئن ہیں اور انھوں نے علاج کو تسلی بخش قرار دیا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی دعائیں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ میں صدق دل سے نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ انھیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کے لیے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔ جبکہ حکومتی ترجمانوں کے اجلاس میں وزیراعظم نے تمام حکومتی اراکین کو اس بات سے سختی سے منع کیا ہے کہ وہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے کوئی بیان یا بات نہ کریں کہ کسی کی دال آزاری ہو، وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ نواز شریف کا علاج پاکستان میں ہی ممکن ہے لیکن اگر وہ چاہیں تو انھیں قانونی تقاضوں کی تکمیل کے بعد بیرون ملک بھیجنے کے انتظامات کروائے جاسکتے ہیں۔
وزیراعظم نے نواز شریف کی تشویشناک صورتحال کے پیش نظر ان کی صاحبزادی مریم نواز جو ایک روزہ پیرول کے بعد واپس کوٹ لکھپت جیل چلی گئی تھیں انھین اپنے والد کے ساتھ رہنے کی اجازت دیتے ہوئے اس ضمن میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کی فوری ہدایت بھی جاری کردی ہے۔
اُدھر قائد حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ نواز کےصدر شہباز شریف بھی اس وقت سروسز ہسپتال میں موجود ہیں اورذرائع کے مطابق انھوں نےنوازشریف کی تیمارداری بھی کی ہے۔ اُدھرسروسز ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ انھوں نے پی کے ایل آئی کی انتظامیہ کو تیار رہنے کا کہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کو وہاں شفٹ کرنے کا فیصلہ میڈیکل بورڈ کرے گا۔ نواز شریف کے جسم میں بدھ کو پلیٹلیٹس کی تعداد 29 ہزار سے گر کر سات ہزار تک آ گئی تھی تاہم انھیں پلیٹلیٹس لگائے جارہے ہیں۔
اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مریم نواز شریف کو جمعرات کی علی الصبح جیل واپس منتقلی کی تصدیق کی ۔ بدھ کی شب کو مریم نواز شریف کو اپنے والد سے ملنے کے لیے جیل سے سروسز ہسپتال جانے کی اجازت دی گئی تھی اور ہسپتال پہنچنے کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی کہ انھیں طبیعت خراب ہونے پر ہسپتال میں داخل کر لیا گیاتھا۔
مریم اورنگزیب نے مریم نواز کوڈاکٹروں کی ہدایت کےخلاف کوٹ لکھپت جیل واپس بھیجنے کی شدید مذمت کی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ طبیعت کی ناسازی کے باوجود مریم نواز کو صبح پانچ بجے جیل واپس بھیجنا تشویش ناک ہے۔ مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ جیل واپسی کے وقت بھی مریم نواز کی طبیعت خراب تھی اورانھیں بلند فشار خون اور دل کی دھڑکن نارمل نہ ہونے کی شکایت تھی۔ڈاکٹرز نے ٹیسٹس کے بعد مریم نواز کو ہسپتال داخل کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ گذشتہ چند روز سے ان کی طبیعت ناساز ہے۔انھوں نے حکام پر الزام عائد کیا کہ مریم نواز کے طبی تجزیے کی رپورٹس ان کے بچوں اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کو فراہم نہیں کی جارہی تھیں۔ مریم نواز شریف کی اس انداز میں جیل واپسی پہلے سے بیمار نواز شریف کو مزید ذہنی اذیت پہنچانے کی ایک اور کوشش ہے۔ تاہم اب وزیراعظم نے مریم نواز کو اپنے والد کے ساتھ رہنے کیلئے انتظامات کی ہدایت کردی ہے۔