عالمی میڈیا مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کو مسلسل دنیا کے سامنے عیاں کررہا ہے لیکن تاحال بین الاقوامی طاقتیں اس معاملے پر خاموش ہیں اس حوالے سے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مقبوضہ کشمیرپر اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارتی کریک ڈاؤن نے مقبوضہ کشمیرکی پوری آبادی کو مفلوج اور خاموش کردیا، مسلسل بندش،چھاپوں اور گرفتاریوں سے مقبوضہ کشمیر کی فضا سوگوار ہے۔
اخبار کا کہنا تھا کہ بھارتی فورسزنے پانچ اگست سے اب تک چھاپوں میں گیارہ سے چودہ سال کے نوجوانوں سمیت ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا، کشمیریوں کو بھارتی میڈیا کے سب نارمل ہونے کے جھوٹ پرغصہ ہے۔امریکی اخبار نے مزید کہا عالمی برادری کے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کا نوٹس لینے کا وقت آگیا ہے۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے بھی کانگریس کی کمیٹی برائے امور خارجہ کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال سنگین ہے اور امریکہ کو اس حوالے سے نہ صرف تشویش ہے بلکہ اس ضمن میں متعدد بار بھارتی حکومت کو کہا گیا ہے کہ وہ کرفیو کا خاتمہ کرکے معمولات زندگی بحال کرے لیکن اب تک کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انڈیا نے کہا کہ دنیا کو کشمیر کی خاموشی پردھیان دینا ہوگا، کشمیراور کشمیری بچے انصاف کے منتظر ہیں، اس بارے میں سب کو بولنے کی ضرورت ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہےکہ کشمیراور کشمیری بچے انصاف کے منتظر ہیں۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کا 81 واں روز ہے، وادی میں اسکول، کالجز اور تجارتی مراکز بند ہیں، مقبوضہ وادی میں نظام زندگی پوری طرح مفلوج ہو چکا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں پبلک ٹرانسپورٹ بند اور مواصلاتی رابطے نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری عوام اور ڈاکٹرز کو اسپتال جانے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے، طلبہ اسکولوں، کالجز اور یونیورسٹیز میں نہیں پہنچ پا رہے۔مواصلاتی نظام کی بندش سے کشمیری شدید ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں جب کہ گھروں میں ادویات اور کھانے کا ذخیرہ ختم ہونے کے باعث موت آہستہ آہستہ کشمیریوں کی طرف بڑھ رہی ہے۔