برطانیہ کے علاقے ایسکس میں گذشتہ روز بلغاریہ سے آنے والے ایک ٹرالرپرموجود کنٹینر سے ملنے والی 39 لاشوں کی ابتدائی شناخت کے مطابق تمام باشندے چینی ہیں۔ برطانوی وقت کے مطابق بدھ کے دن ایک بج کر چالیس منٹ پر پولیس کو لاشوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ یہ کنٹینر گریز ایریا کی ایسٹرن ایوینیو پر واٹرگلی انڈسٹریل پارک میں موجود تھا۔کنٹینر کے 25 سالہ ڈرائیور کو قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔۔ ڈرائیور کا تعلق شمالی آئرلینڈ سے ہے۔شمالی آئرلینڈ میں پولیس نے اس سلسلے میں دو گھروں پر چھاپہ بھی مارا ہے۔
کونسلر پال بیری کے مطابق وہ ٹرالرکے ڈرائیورمو رابنسن کےوالد سے رابطے میں ہیں، جن کو اپنے بیٹے کی گرفتاری کا علم بدھ کے روز سوشل میڈیا سے ہوا۔انھوں نے کہا ’مقامی کمیونٹی امید کر رہی ہے کہ مو رابنسن کو اس معاملے میں بغیر کسی قصور کے پکڑا گیا ہے لیکن یہ ایسکس پولیس کے ہاتھوں میں ہے اور ہم اس معاملے کو ان کے پیشہ ورانہ ہاتھوں میں چھوڑیں گے تاکہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو پکڑا جا سکے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ کنٹینر بلغاریہ سے آ رہا تھا اور وہ ہفتے کوبرطانیہ میں ہولی ہیڈ کے راستے داخل ہوا تھا۔ پولیس کو حاصل ہونے والی ابتدائی معلومات کے مطابق مرنے والوں میں ایک نوعمر لڑکا جبکہ 38 بالغ افراد شامل ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے کچھ نہیں بتایا کہ آیا کسی شخص کو زندہ بھی برآمد کیا گیا ہے یا نہیں۔
پولیس کا کہنا ہےکہ لاشوں کی شناخت کی جا رہی ہے اور یہ ایک ’پیچیدہ عمل‘ ہو سکتا اس سلسلے میں لاری ڈرائیورتفتیش کے لیےپولیس کی حراست میں ہےاوراس سےسوال جواب جاری ہیں واقعہ کے حوالے سے برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ ’اس اندوہناک واقعے پر پریشان ہیں۔‘ان کا کہنا تھا ’مجھے اس حوالے سے لگاتار مطلع کیا جا رہے ہے اور ہوم آفس مقامی پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ میری ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہے۔‘
وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ناقابل تصور سانحہ اور ایک صیحح معنوں میں دلخراش واقعہ ہے۔ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ مجھے اپنے پیاروں کو کھو جانے والوں کے دکھ درد کا اندازہ ہے اور میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ وزارت داخلہ ایسکس پولیس کے ساتھ مل کر کام کرے گی کیونکہ ہم نے یہ پتا چلانا ہے کے آخر یہ سب ہوا کیسے ہے۔
اُدھرآئرلینڈ کے وزیراعظم لیو وارادکر کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اموات کا ہونا بڑا انسانی المیہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی کہ کیا لاری آئرلینڈ کے پاس سے گزری تھی۔
ہوم سیکرٹری پریٹی پٹیل کا کہنا ہے کہ اس بڑے ہی المناک حادثے پر انھیں انھیں صدمہ اوار دکھ پہنچا ہے۔ آئرلینڈ سے رکن اسمبلی ڈولے پرائس کا کہنا ہے کہ یہ ایک دل کو دہلا دینے والی خبر تھی۔انھوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انسانی سمگلنگ ایک خطرناک کاروبار ہے۔ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پولیس ان قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لائے گی۔
دوسری جانب ڈپٹی چیف کانسٹیبل پِپا ملز کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے متاثرین کی شناخت کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے یہ اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو بھی اس لاری کے ممکنہ روٹ یا کوئی اور معلومات ہوں تو وہ حکومت سے شئیر کرے۔ یا کسی نے اس لاری کو دیکھا ہو یا اس کے سفر کے بارے میں کوئی علم ہو تو وہ متعلقہ حکام سے رابطہ کرے۔