سانحہ ساہیوال کے ملزمات کی بریت کے خلاف وزیراعظم نے اپیل دائر کا حکم دیدیا

وزیراعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال میں ملوث 6 پولیس اہلکاروں کی بریت کے عدالتی فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار  کرتے ہوئے اپیل دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کہتی ہیں کہ حکومت اس کیس میں خود مدعی بنے گی، حقدار کو انصاف دلایا جائے گا، گزشتہ روز انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ساہیوال میں 4 افراد کے قتل میں ملوث پولیس اہلکاروں کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی فیصلے کو سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا اور اسے انصاف کا قتل عام قرار دیا جا رہا تھا۔

جبکہ اس حوالے سے وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ ملزم کے خلاف مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہا اور گواہوں میں سے کسی نے بھی واقعہ کی موجودگی کی شہادت نہیں دی۔وزارت داخلہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ انصاف کی فراہمی میں مشکلات کی ایک بہت ہی قابل افسوس مثال ہے، جس پر وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو ملزمان کی بریت کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عمران خان نے وزارت داخلہ کے حکام سے کہا ہے کہ تحقیقات اور استغاثہ کی خامیوں کی انکوائری اور ان کی نشاندہی کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی جائے۔وزیراعظم کا کہنا ہے کہ کمیٹی کو ریاست کے مختلف حصوں میں موجود غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرنے والوں کو بھی شناخت کرنا چاہیے، متاثرہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کے لیے خصوصی تجاویز پیش کی جائیں۔عمران خان نے تعمیل کی ایک رپورٹ اس وزارت اور وزیراعظم آفس کو 3 روز کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اس سے قبل ترجمان وزیراعظم افضل ندیم چن نے بھی سانحہ ساہیوال سے متعلق کیس کے عدالتی فیصلے کے حوالے سے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ  کیس میں انصاف نہیں ہوا اور جلیل کی باتوں سے لگ رہا ہے اس نے پیسے لے کر یا دباؤ میں صلح کی ہے۔اب وزیراعظم عمران خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی بریت کے عدالتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایک روز قبل ہی لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نمبر 1 کے جج ارشد حسین بھٹہ نے سانحہ ساہیوال کے کیس کی سماعت کی جس میں نامزد ملزمان صفدر حسین، احسن خان، رمضان ، سیف اللہ، حسنین اور ناصر نواز عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت نے مقدمے میں مقتول ذیشان کے بھائی اور خلیل کے بچوں سمیت 49 گواہان کے بیانات قلمبند کیے تاہم تمام گواہان نے عدالت کے روبرو ملزمان کو شناخت کرنے سے انکار کردیا۔ مقدمے میں وکلا اور سرکاری گواہوں کے بیانات پر 9 ماہ بعد جرح مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ سناتےہوئے تمام 6 ملزمان کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کردیا۔

19 جنوری کی سہ پہر سی ٹی ڈی نے ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پر ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں خلیل، اس کی اہلیہ، بیٹی اور محلے دار ذیشان گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوئے جب کہ کارروائی میں تین بچے بھی زخمی ہوئے۔واقعے کے بعد سی ٹی ڈی کی جانب سے متضاد بیانات دیے گئے، واقعے کو پہلے بچوں کی بازیابی سے تعبیر کیا بعدازاں ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد مارے جانے والوں میں سے ایک کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

 

Share This Article

تازه ترین