پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتار پور راہدری کے حوالے سے اہم ترین معاہدہ بھی ہوگیا اور 9 نومبر کو اس کا افتتاح وزیراعظم عمران خان کریں گے، پاک بھارت سخت کشیدگی کے ماحول میں اس راہداری کو عالمی سطح پر بھی اہمیت حاصل ہے بھارت اور دنیا بھر کے سکھ یاتری تو اس فیصلے سے خوش ہیں ہی ساتھ میں امریکہ بھی منتظر ہے کہ راہداری کُھلے اور سکھ یاتری آئیں۔
اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ نے کرتارپورراہداری کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نومبرمیں راہداری کے باضابطہ کھلنے کے منتظر ہیں، پڑوسیوں کے درمیان عوامی رابطوں کا بننا اچھی خبرہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ساؤتھ اورسینڑل ایشیا بیورو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کرتارپورراہداری کے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کرتارپورراہداری کھلنے سے سکھ یاتری گردوارہ کرتارپورصاحب کا دورہ کرسکیں گے،
دوسری جانب بھارت اور دنیا بھر میں رہنے والے کروڑوں سکھوں میں بھی کرتار پور راہداری کھلنے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا جارہا ہے اور وہ شدت سے اس بات کے منتظر ہیں کہ افتتاح کے بعد ان کا نمبر بھی جلدی آئے کہ وہ دربار صاحب جاکر اپنا متھا ٹیک سکیں، سکھ رہنماوں نے کرتار پور معاہدے پر پاکستان کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنا ہے کہ پاکستان کی پیش رفت کے بغیر یہ منصوبہ مکمل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔
اُدھر کرتار پور راہداری کھلنے سے یاتریوں کے فائدے اور پاک بھارت کشیدہ ماحول پر مثبت اثرات تو متوقع ہیں ہی، اس کے علاوہ پاکستان کو مالی طور پر بھی بھاری فوائد حاصل ہوں گے، معاہدے کے تحت بھارت سے آنے والے یاتریوں کو بنا ویزہ صرف 20 ڈالر فیس دینی ہوگی اور یومیہ 5 ہزار سکھ بھارت سے 24 گھنٹے کے وزٹ پر آسکیں گے جبکہ سرکاری تعطیلات میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی، تاہم اس کا اطلاق دیگر ممالک سے آنے والے یاتریوں پر نہیں ہوگا۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے مہینے کے 22 کام کے دنوں میں یومیہ 5 ہزار کے حساب سے 1 لاکھ 10 ہزار یاتریوں سے فی کس 20 ڈالرز فیس سے 22 لاکھ ڈالرز یعنی 33 کروڑ روپے ماہانہ جمع ہوں گے جبکہ بیرون ملک اور بھارتی یاتریوں کی آمد سے ہوٹلنگ اور دیگر کاروبار کے فروغ میں بھی کروڑوں کی آمدنی ہوگی اس طرح پاکستان کیلئے یہ راہداری سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی طور پر خوش آئند ثابت ہوسکتی ہے۔