بھارتی آرمی چیف بھی کم و بیش مودی سرکار کے وزراء جیسی ہی سوچ رکھتے ہیں جو ہر کچھ دن بعد کوئی بیان داغتے یا دعویٰ کرتے ہیں اور گذشتہ جھوٹے دوعے کا ذکر بھیء نہیں کرتے جبکہ ان کے دعووں کا ہدف پاکستان اور آزاد کشمیر ہی ہوتا ہے، تازہ ترین بیان میں بھارتی آرمی چیف جرنل بپن راوت نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر پاکستانی حکومت کا نہیں بلکہ شدت پسندوں کا قبضہ ہے جو انڈیا کے زیر انتظام کشیمر میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا بھرپور ردعمل
بھارتی آرمی چیف کے بیان پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے فوری طور پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان اصل میں پاک فوج کے ہاتھوں اٹھائے جانے والے نقصانات کی عکاسی ہے، جو لوگ اپنے ہی ہیلی کاپٹرز اور جہازوں کو بدحواسی میں تباہ کردیں ان سے اسی قسم کے بیانات کی توقع کی جاسکتی ہے، میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ اس طرح کے بیانات دے کر وہ خطے میں امن عمل کو مسلسل متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں سرجیکل اسٹرائیک سے لے کر آزاد کشمیر پر بحاری اسلحے سے فائرنگ کرکے دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنے کے حالیہ بے بنیاد دعوے آرمی چیف کی دماغی حالت کو بیان کرتےہیں اوراب تو بحارتی سینئر صحافی بھی ان کی دماغی حالت پر سوالیہ نشان اٹھانے لگے ہیں۔ وہ بھی حیران و پریشان ہیں کیونکہ پاکستان نے سفارتکاروں کو متاثرہ مقام کا دورہ کروا کر اور بھارتی ہائی کمیشن حکام نے وہاں نہ جا کر بھارتی آرمی چیف کے دعووں کے غباروں سے مکمل ہوا نکال دی ہے۔
اس سے قبل اپنے بیان میں مزید جنرل بپن راوت نے کہا کہ دفعہ 370 ختم کیے جانے سے ملک اپنے ‘حتمی مشن’ کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گا۔ انڈین فوج کے سابق سربراہ جنرل کری اپا کی یاد میں ایک پروگرام میں تقریر کرتے ہوئے جرنل بپن راوت نے کہا کہ دفعہ 370 ایک عارضی انتظام تھا اور اسے ختم کیے جانے کے خلاف پاکستان اچانک اس لیے آوازیں اٹھانے لگا کیونکہ ’جس علاقے کشمیر اور گلگت، بلتستان پر پاکستان نے غیر قانونی طریقے سے قبضہ کر رکھا ہے اس پر پاکستان کی حکومت کا کنٹرول نہیں بلکہ یہ دہشت گردوں کے کنٹرول میں ہے۔
بپن راوت نے مزید کہا کہ اس علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 42,000 جانیں جا چکی ہیں اس لیے پاکستانی اسٹیبلشمینٹ اور دہشت گردوں کے کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ خاموش بیٹھیں۔ اسی لیے وہ دفعہ 370 ختم کیے جانے کے خلاف واویلا کر رہے ہیں‘۔جرنل بپن راوت نے اپنی تقریر میں کشمیر میں دوسری ریاستوں سے زیادہ ترقی کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جموں و کشمیر کو مرکز سے دوسری ریاستوں کے مقابلے چار گنا زیادہ مالی امداد ملتی تھی لیکن ریاست میں اس کی مناسبت سے ترقی نہیں ہو رہی تھی۔
انڈین آرمی چیف نے کہا ’ریاست میں ترقی کے جو اشاریے ہیں وہ بہار، اتر پردیش اور مدھیہ پریش جیسی پسماندہ ریاستوں کے دگنے کے برابر بھی نہیں ہیں‘۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر جن ’دہشت گردوں کا قبضہ ہے وہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کو معمول پر لانے میں رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اسی لیے ہم سیب کے تاجروں، دوسری ریاستوں کے ٹرک ڈرائیوروں کے قتل کے واقعات، دکانداروں کو دکانیں بند رکھنے اور سکول میں بچوں کو نہ بھیجنے کی دھمکیوں کے واقعات دیکھ رہے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کیوں کہ یہ پاکستان اور اس ریاست میں رہنے والے دہشت گردوں کے بیانیے کا حصہ ہے‘۔ جرنل بپن راوت نے کہا ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کشمیر میں موجود فوجیوں اور حکومت کی پالیسوں کی مدد سے ہمیں اپنے حتمی مشن کو حاصل کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے‘۔