مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلسل 82 ویں روز بھی معمولات زندگی بہتر نہیں ہوسکے اور وادی اور جموں سمیت مسلم اکثریتی علاقوں میں پابندیاں جاری ہیں اور عوام میں بھارتی فوج کے چھاپوں، تشدد اور فائرنگ کا خوف چھایا ہوا ہے کیونکہ فوج اور پولیس کی بھاری نفری شہروں میں تعینات ہے جبکہ نماز جمعہ کی ادائیگی بھی ممکن نہیں ہوسکی مسلسل بارہ ہفتے گزر چکے ہیں کشمیر وادی کی مساجد میں نماز جمعہ ادا نہیں کی گئی ۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ مرکزی جامع مسجد کا دروازہ مقفل رہتا ہے اور وہاں فورسز کے دستے تعینات ہیں ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہوئے مکمل شٹرڈاون کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد بھارت کے غیرقانونی قبضے کے خلاف دنیا کو واضح پیغام دینا ہے۔
سید علی گیلانی نے یوم سیاہ کے حوالے سے جاری بیان میں کہا کہ 27 اکتوبر 1947 تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا۔انہوں نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے باہر مقیم تمام کشمیریوں سے درخواست
کی کہ وہ بھارت کے قبضے کے خلاف مظاہرے کریں اور مسئلہ کشمیر اور مقبوضہ علاقے میں قید شہریوں کی حالت زار کی جانب دنیا کی توجہ مبذول کروائیں۔
خیال رہے کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج جموں و کشمیر میں داخل ہوئی تھی اور کشمیریوں کی منشا اور تقسیم کے منصوبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے پر قبضہ کیا تھا۔
سید علی گیلانی نے کہا کہ گزشتہ 82 روز سے مقبوضہ جموں وکشمیر میں شٹر ڈاون جاری ہے تاہم 27 اکتوبر کو ہڑتال کے اعلان کا مقصد یوم سیاہ منانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے آزادی کے لیے کشمیری 1947 سے تاحال بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل تک جدوجہد جاری رکھنے کے لیے بدستور پرعزم ہیں۔بھارت کی ہٹ دھرمی کو مسئلے کے حل میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی اکڑ طویل مسئلے کے حل میں رکاوٹ ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ فاشست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں بھارتی حکومت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا فیصلہ، مظالم میں اضافہ اور مواصلاتی ذرائع کی بندش سمیت مکمل بلیک آوٹ مقبوضہ کشمیر کو اپنے کالونی بنانے کے بھارت کے پرانے ہتھکنڈے ہیں۔
واضح رہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں سری نگر کی تاریخی جامع مسجد سمیت دیگر بڑے شہروں کی مرکزی مساجد میں مسلسل 12 ویں ہفتے نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی جہاں 5 اگست کے فیصلے سے اب تک نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں ہوئی۔سری نگر، بڈگام، گندربل، اسلام آباد، پلواما، کلغام، شوپیاں، بندی پورا، بارہ مولا، کپواڑا اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں شہریوں نے نماز جمعہ کے بعد جگہ جگہ احتجاج کیا بھارتی قبضے کے خلاف نعرے بازی کی۔بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گنز اور آنسو گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے۔
حریت یوتھ لیگ نے مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم مظاہرین کو جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ سے روکا گیا اور احتجاج کو روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔.