رابعہ رزاق
انسانی اسمگلنگ ۔۔۔ ایک قدیم تجارت جس میں ان خوابوں اور خواہشوں کا لین دین ہوتا ہے جو انسان ازل سے دیکھتا آرہا ہے وہ خوشحالی کی منزل پر پہنچنے کے لیے پر خطرسرحدوں کا غیرقانونی سفراختیار کرتا ہے ، موسموں کی سختیوں سے لڑتا ہے ، اپنے پیاروں کو محبت بھری آنکھ سے آخری بار دیکھتا ہے کیونکہ اسے اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ وہ جس راستے پر چل پڑا ہے اس میں منزل سے زیادہ موت ملتی ہے لیکن اس کے باوجود خوشحال مستقبل کے حصول کی آرزو اتنی شدید ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی کو ہر طرح کے خطرے کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ اس ایجنٹ کے حوالے بھی کر دیتا ہے جووعدوں کی حد تک اس کے سفر کا ساتھی ہوتا ہے ۔
یہ معمولی سا ایجنٹ آٹھ سے دس لاکھ روپے معاوضہ ایڈوانس میں لینے کے بعد بعض اوقات خوابوں سے بھری کشتی اور خواہشوں سے بھرا کنٹینر کسی ایسی سرحد پر چھوڑ کر غائب ہو جا تا ہے جہاں سے بعد میں ان خوابوں اور خواہشوں کی باقیات ہی ملتی ہیں کیونکہ خطرے کی بو سونگھ کر وہ خود تو اپنی جان بچا لیتا ہے لیکن اپنے کلائنٹ بارڈر سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دیتا ہے
انسانی اسمگلنگ کے اپنے اصول ہیں مگر صرف کلائنٹس کے لئے ، کوئی بھی شخص خود کو اپنی مرضی سے ان اسمگلرز کے حوالے کر تا ہے جو ان کو سرحد پار کروانے کا یقین دلاتے ہیں اور یورپ کے کسی ملک تک پہنچانے کا وعدہ بھی ۔ غربت سے نجات کی خواہش لیے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں نوجوان سمندری اورسرحدی راستوں کے ذریعے یورپ کے سفر پر نکلتے ہیں ۔ان میں سے ہزاروں کو سمندر نگل چکا ہے جبکہ یونان کی سرحد پر مرنے والوں اور مارے جانے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ لیسبوس میں غیرملکیوں کے لیے مختص قبرستان کب کے بھر چکے ہیں۔
غیر قانونی طور پر سرحد پارکرنے والے اور پھر وطن واپس لوٹ کر آنے والے ایک شخص کا کہنا ہے کہ وہ خود کو خوش قسمت سمجھتا ہے کہ ایک خوفناک تجربے کے بعد بھی وہ زندہ ہے اس کا کہنا تھا کہ سفر انتہائی ہولناک تھا راستے میں کئی جگہ پر انسانی باقیات بھی دیکھیں تھی کیونکہ مہاجرین اپنی جسمانی قوت نہ ہونے کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں یا پھر سرحدی سیکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوجاتے ہیں، جبکہ اس سفر میں زخمی یا بیمار افراد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا جاتا ہے کیوںکہ باقی افراد رک کر ان کی مدد کرنے کا خطرہ نہیں لے سکتے۔
ایک اور یورپ جانے کے ناکام خواہشمند نے بتایا کہ ’’ ایجنٹ اپنی فیس ایڈوانس میں لیتے ہیں جس کے بعد مہاجرین سے بھری کشتی سمندر میں اترتی ہے کچھ دیر بعد کشتی چلانے والا ایک خالی کشتی میں بیٹھ کر واپس ساحل کی جانب چلا جاتا ہے اور مہاجرین کو انجانے راستوں یا پھر میری ٹائم سیکیورٹی اہلکاروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے‘‘۔
اس کا کہنا تھا کہ کشتی کو اپنے مقام تک پہنچنے کے لیے درکار ایندھن بھی نہیں ڈالا جاتا جبکہ ہنگامی صورتحال کے لیے دی گئی لائف جیکٹس بھی اتنی خستہ حالت ہوتی ہیں کہ اگر کوئی ہنگامی صورتحال ہو تو وہ کسی کام نہیں آئیں گی۔
ایک اور زندہ اور واپس پلٹنے والے خوش قسمت نے بتایا کہ’’ سرحد کا یہ سفر خطروں سے بھرا ہوتا ہے کیونکہ ہائی وے کے چور مسافروں سے ان کے موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹتے ہیں جبکہ وفد اغواکاروں کا بھی ہدف رہتا ہے ، لٹیرے ڈرائیورز کو مارتے ہیں گاڑیوں کے ٹائر نکال دیتے ہیں اور انہیں ویرانے میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں‘‘۔
لیبیا سے لوٹ کر آنے والے ایک اور تارکین وطن نے بتایا کہ ’’۔ سب سے پہلے ہمیں کراچی لے جایا گیا، وہاں سے جیوانی اور پھر جیوانی سے ایران۔ ایران اور ترکی کے راستے میں ایک پہاڑی علاقہ ہے، جہاں گھنٹوں پیدل چلنا پڑتا ہے۔ اگر وہاں کوئی بیمار ہو جائے تو ایجنٹ اور ان کے کارندے گلہ دبا کر مار دیتے ہیں۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے پندرہ لاشیں ان پہاڑوں پر دیکھی تھیں‘‘۔
سفر انتہائی دشواراور پرخطر ہے زندگی کی بھی کوئی ضمانت نہیں ، اور اطلاعات کے اس دورمیں ان تمام حالات سے آگاہی ہونے کے باوجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد انسانی اسمگلرز کے دکھائے سہانے مستقبل کی تلاش میں نکل پڑتی ہے یہ محض المیہ نہیں بلکہ ہمارے حکمرانوں کی ناکام طرز سیاست کا شاخسانہ ہے ۔ نوجوانوں کو اپنے وطن کے غیر مستحکم معاشی حالات اور بے روزگاری کی ایک طویل مایوسی سے بہتر مشکلات کا یہ سفر لگتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے ہماری حکومتوں نے وطن عزیزکے نوجوانوں کے لیے امید اور خوشحالی کا کوئی راستہ ہموار نہیں کیا سوائے کھوکھلے دعووں اور باتوں کے ، یہ نوجوان معشیت میں ریڑھ کی ہڈی جیسا مضبوط کردار رکھنے کے باوجود ریاست کے بوجھ بن چکے ہیں اس کے ذمہ دار ہمارے حکمران ہی تو ہیں جن کے پاس الزامات کی سیاست کے سوا ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے کوئی مؤثر لائحہ عمل نہیں ۔
پاکستان کی آبادی میں ہر سال تیس لاکھ نوجوانوں کا اضافہ ہو رہا جب کہ روزگار کے مواقع اتنی ہی تیزی سے سمٹ رہے ہیں ۔ کئی برسوں سے ملک میں بڑی صنعتیں نہیں لگ رہی ہیں کیونکہ بجلی کا بحران ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں صنعتیں بند پڑی ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے شائع ہونے والی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کو متنبہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے اس سنگین صورت حال پر قابو نہ پایا تو پاکستان کو ملنے والی بین الاقوامی امداد میں کٹوتی کی جاسکتی ہے۔ رپورٹ میں انسانی اسمگلنگ کی وجوہات ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بیروزگاری، امن و امان کی بدترین صورت حال اور عدم تحفظ بتائی گئی۔
انسانی اسمگلنگ سے ایک طرف جہاں بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوتی ہے، وہیں غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والے پاکستانی یا تو پکڑے جاتے ہیں یا پھر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق صرف 2 فیصد خوش نصیب افراد ہی اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو پاتے ہیں۔