برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ میں  16 سالہ مسلم ایتھلیٹ نور ابوکارام کے مطابق حجاب پہننے پر انہیں کہا گیا کہ ان کا لباس ریس میں حصہ لینے کے قواعد و ضوابط کے خلاف ہے۔مسلم ایتھلیٹ نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ وہ ہمیشہ سے سیلوانیا نارتھ ویو اسکول ٹیم کی نمائندگی کرتی آ رہی ہیں کبھی بھی ان کے حجاب کی وجہ سے مسئلہ نہیں بنا۔ نورابوکارام نے کہا کہ سرکاری انتظامیہ اور ان کی ٹیم معائنہ کرنے کے لیے آئی، اس وقت بھی انہیں حجاب کے حوالے سے کچھ نہیں کیا گیا۔

ایتھلیٹ نور نے اپنی فیس بک پوسٹ پر بتایا کہ ضلعی سطح پر مقابلوں میں ان کے حجاب کو کبھی بھی مسئلہ نہیں بنایا گیا، وہ ہمیشہ سے سیلوانیا نارتھ ویواسکول ٹیم کی نمائندگی کرتی آرہی ہیں۔نورنے مزید بتایا کہ  جب سرکاری انتظامیہ ان کی ٹیم کا معائنہ کرنے کے لیے آئی تو انہوں نے ٹیم کی ایک ممبر کو شارٹس تبدیل کرنے کو کہا کیونکہ یہ ان کے قواعد کی خلاف ورزی تھی مگر انتظامیہ نے انہیں اس وقت حجاب کے حوالے سے کچھ بھی نہیں کہا۔

ایتھلیٹ کا کہنا تھا کہ اسی دوران انہوں نے اپنے کوچ کوانتظامیہ سے کچھ نجی گفتگو کرتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔نور ابو کارام نے بتایا کہ  جیسے ہی انہوں نے 5 کلو میٹر کی دوڑ کو عبور کیا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ اسکور بورڈ پر ان کا نام موجود نہیں تھا جس پر ان کے کچھ ساتھیوں نے بتایا کہ انہیں حجاب کی وجہ سے مقابے کیلئے نااہل قرار دیا گیا ہے۔

نور ابوکارام  نے کہا کہ اس معاملے پر کافی مسئلہ کھڑا ہوجانے کے بعد اوہایو ہائی اسکول ایتھلیٹک ایسوسی ایشن نے آئندہ  مذہبی قواعد و ضوابط میں چھوٹ دینے پر نظر ثانی کی یقین دہانی کرائی ہے۔حجاب کے حوالے سے یہ تنازع کوئی نئی بات نہیں ہے، اس سے قبل بھی گزشتہ سال پینسلوینیا کے شہر فلاڈیلفیا میں باسکٹ بال کی 16 سالہ کھلاڑی کو اس کے حجاب پہننے پر کھیل چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے