آزادی مارچ ریڈ زون کےعلاوہ کہیں بھی،اپوزیشن رضامند،رابطے بھی بحال

گذشتہ چند دنوں کے دوران جس طرح ملک میں سیاسی منظر نامے میں تیزی سے تبدیلیاں واقع ہوئی ہین اس سے لگتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ وقت کے دھارے کے ساتھ خود کو موڑ لینا ہی عقلمندی ہے اور ممکنہ طور پر ان کی ہی ہداایت پر اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے نہ صرف ریڈ زون کے علاوہ اسلام آباد کے کسی بھی علاقے میں احتجاجی مارچ کی حامی بھر لی ہے بلکہ حکومتی مزاکراتی ٹیم سے رابطے بحال کرکے جلد ہی دوسری اور نتیجہ خیز ملاقات پر بھی راضی ہیں۔

اس سارے احوال کے بارے میں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن اور حکومتی کمیٹی کے درمیان ایک بار پھر رابطے شروع ہو گئے ہیں، مذاکرات میں جو ڈیڈ لاک آ گیا تھا، ختم ہو گیا ہے اور کمیٹی کے ارکان نے ٹیلی فونک رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کو جلسہ کرنے کے لیے نئے مقامات بھی تجویز کر دیے ہیں، بتایا گیا ہے کہ حکومتی کمیٹی پریڈ گراونڈ کے علاوہ اپوزیشن کو پشاور موڑ یا ایف نائن پارک استعمال کرنے کی تجویز دے دی ہے۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ جمعیت علمائے اسلام ف ریڈ زون میں آزادی مارچ کولےجانےکےمطالبے سے بھی دستبردارہوگئی ہےاوراحتجاج کے لیے نئے مقام کا تعین مشاورت سے کرنے پربھی اتفاق کیا جا چکا ہے۔اس سے قبل اپوزیشن ڈی چوک پر جلسے کے لیے ڈٹی ہوئی تھی جس میں اب لچک بھی پیدا کرلی گئی ہے، اور ممکنہ طور پر جلد ہی دونوں جانب سے ملااقات کی جائے گی۔

جمعے کی شب حکومتی کمیٹی اوررہبرکمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ رہے تھے، ملاقات میں اپوزیشن کی جانب سے چار نکاتی ایجنڈا پیش کیا گیا، جس میں وزیر اعظم کے مستعفیٰ ہونے،نئےانتخابات کرانے،عوامی حقوق کی بالادستی اورآزادی مارچ میں رکاوٹ نہ ڈالنا شامل تھا،حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کو فہرست سے نکال کر بات آگےبڑھانے پرزوردیا جس کے بعد پریڈ گراؤنڈ کیلئے احتجاج کی پیشکش کی تھی۔

Share This Article

تازه ترین