مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں اپوزیشن کےآزادی مارچ کا آغازکراچی سے ہوگیا ہے،کراچی ٹول پلازہ سے شروع ہونے والے مارچ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی، اس موقع پر مولانا فضل الرحمان ،مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیراور رہنما پیپلز پارٹی رضا ربانی نے خطاب کیا۔
افتتاحی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے یوم سیاہ کے موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی اور کہاکہ پاکستانی قوم کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پرخاموش نہیں رہ سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں سے اظہاریکجہتی دنیا کوپیغام ہےکہ پاکستانی قوم ایک پیج پر ہے اور ساتھ ہی بھارت کی ظالمانہ حکومت کو بھی پیغام مل رہا ہے۔بھارت کی فوج نے 27 اکتوبر کر کشمیر میں داخل ہوکر قبضہ کرلیا تھا جب کہ کرفیو کے نفاذ سے بھارت کشمیر میں شخصی زندگی میں تنگی کا مجرم ہے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی عام زندگی کو اجیرن بنا رہی ہے لہذا عالمی برادری او آئی سی اور عالمی تنظیمیں کشمیر میں بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ آزادی مارچ، حوکمت کے خاتمے تاک جاری رہے گا، ہم 25 جولائی کے الیکشن کو نہیں مانتے، سلیکٹڈ حکومت کو گھر جانا ہوگا اور نئے انتخابات کا اعلان کرنا ہوگا جبکہ پیپلز پارٹی رہنما رضا ربانی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو کی ہدایت پر یہاں موجود ہیں، جہاں جہاں سےآزادی مارچ گزرے گا، پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنان استقبال کریں گے۔
آزادی مارچ کے لیے خصوصی طور پر کنٹینر تیار کیا گیا ہے جس میں سونے، باتھ روم اور دیگر سہولیات موجود ہیں جبکہ کنٹینرز کی چھت پر قائدین کے خطاب کے لیے بھی جگہ بنائی گئی ہے۔ کراچی سے شروع ہونے والا آزادی مارچ حیدرآباد، سکھر، گھوٹکی سے ہوتا ہوا پنجاب میں داخل ہوگا، قافلہ فورٹ منر وکے پہاڑی سلسلوں سے گزرتا ہوا ڈیرہ غازی خان، ملتان اور پھر بذریعہ لاہور اسلام آباد پہنچے گا۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے لیے ملک بھر سے قافلےاسلام آباد کی جانب روانہ ہوئےجو 31 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہوں گے۔کوئٹہ سے آزادی مارچ 3 بجے مولانا عبدالواسع کی قیادت میں اسلام آباد روانہ ہوا، اس قافلے میں سیکڑوں افراد شریک ہیں۔ یہ قافلہ لورالائی سے براستہ ڈی جی خان اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا۔
آزادی مارچ کے لیے پفتے کی شب حکومت اور اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا جس کے مطابق آزادی مارچ طویل نہیں ہوگا۔ معاہدے کے مطابق آزادی مارچ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن اتوار بازار میٹرو ڈپو پرمنعقد ہوگا، حکومت ریلی کے شرکاء کے راستے سمیت کھانے پینے کی ترسیل میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی، جبکہ آزادی مارچ کے شرکاء شہریوں کے بنیادی حقوق سلب نہیں کریں گے اور نہ ہی ٹریفک اور معمولات زندگی میں خلل ڈالا جائے گا،اگر احتجاج پرامن رہا تو حکومت کوئی رکاوٹ پید ا نہیں کرے گی۔