برطانوی وزیراعظم کے سارے حربوں اور ساری کوششوں میں اس وقت ناکامی ہوگئی جب یورپی یونین کے رہنماؤں نے معاہدے کی توثیق ہونے پر برطانیہ کو پہلے چھوڑنے کے آپشن کے ساتھ 31 جنوری 2020 تک بریگزٹ توسیع دینے پر اتفاق کرلیا۔ اس فیصلے کا اعلان یوروپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے پیر کی صبح ٹویٹر پرکیا۔ڈونلڈ ٹسک کے مطابق اگر آئندہ سال 31 جنوری سے قبل برطانوی پارلیمنٹ یورپی یونین سے بریگزٹ ڈیل کی منظوری دے دیتی ہے تو برطانیہ ڈیڈ لائن سے قبل بھی یورپی یونین سے نکل سکتا ہے۔
برطانوی پارلیمان میں یورپی یونین سے انخلا میں توسیع کے حق میں قرارداد کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم بورس جانسن نے 20 اکتوبر کو بریگزٹ میں تاخیر کے لیے یورپی یونین کو تحریری طور پر درخواست بھیجی تھی تاہم وزیر اعظم کی جانب سے لکھی گئی اس درخواست پر ان کے دستخط نہیں تھے۔ اس درخواست کے بعد بورس جانسن نے یورپی یونین کو ایک اور خط بھی لکھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے خیال میں بریگزٹ میں تاخیر ایک غلطی ہو گی۔
اس سے قبل بریگزٹ میں تاخیر کی قرارداد دارالعوام کے آزاد رکن سر اولیور لیٹون نے پیش کی تھی اور پارلیمان کے 322 ارکان نے اس کی حمایت جبکہ 306 نے مخالفت کی تھی۔ قانون کے تحت دارالعوام سے قرارداد کی منظوری کے بعد وزیرِ اعظم یورپی یونین کو بریگزٹ کی 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے درخواست کرنے کے پابند تھے۔
یورپی یونین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے بعدازاں ایک ٹویٹ کے ذریعے برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے تحریری درخواست موصول ہونے کی تصدیق کی۔انھوں نے اس حوالے سے زیادہ تفصیلات فراہم نہیں کیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے اب وہ یورپی یونین کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے کہ ‘اس پر کیا ردِعمل دیا جائے، جس کے بعد 28 اکتوبر کو یورپی یونین نے بریگزٹ کے حوالے سے اہم فیصلہ سنا دیا ہے۔

اگرچہ برطانیہ کی پارلیمان نے یورپی یونین سے انخلا میں توسیع کے حق میں قرار داد منظور کی تھی۔ جس کے بعد وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا کہ وہ یورپی یونین سے انخلا کے حوالے سے اپنے منصوبے پر ’بے خوف‘ عمل درآمد کرتے رہیں گے۔برطانوی وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ وہ اگلے ہفتے پارلیمان میں ایک نیا قانون متعارف کراوئیں گے تاکہ ان کے معاہدے پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ اس قرارداد کے تحت بورس جانسن کی یورپی یونین سے انخلا کی ڈیل کو اس پر عمل درآمد کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی تک ’روکا‘ جا سکے گا۔
یہ شکست برطانوی وزیرِ اعظم کے لیے ایک شدید جھٹکا تھی جنھوں نے متعدد مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس ماہ کے اختتام تک برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلا یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ لیکن برطانوی وزیر اعظم بورس جانسسن کا کہنا ہے کہ وہ مایوس نہیں ہوئے ہیں اور ان کو اب بھی یقین ہے کہ برطانیہ کے لیے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ اپنے ’بہترین معاہدے‘ کی بنیاد پر اس ماہ کے آخر میں یورپی یونین سے الگ ہو جائے۔ انھوں نے کہا تھا ’میں یورپی یونین کے ساتھ تاخیر سے متعلق بات چیت نہیں کروں گا اور نہ ہی قانون مجھے ایسا کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ اپنے ’بہترین معاہدے‘ کی بنیاد پر اس ماہ کے آخر میں یورپی یونین سے الگ ہو جائے۔‘
جبکہ لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربین نے کہا ہے کہ اس شکست سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وزیر اعظم کی حکمت عملی کو ’پرزور‘ انداز میں مسترد کیا گیا ہے اور اب انھیں مزید توسیع کے حصول میں قانون کی پابندی کرنا ہو گی۔
یورپی یونین کے فیصلے کے بعد برطانوی پارلیمان میں اس بات پر رائے شماری ہونی ہے کہ آیا انھیں بورس جانسن کے 12 دسمبر کے انتخابات کے فیصلے پر جانا چاہیئے یا نہیں۔؟؟ اس عمل کو فکسڈ ٹرم پارلیمنٹس ایکٹ (ایف ٹی پی اے) کے تحت بنایا گیا ہے ،جس کیلئے 433 ممبران پارلیمنٹ میں سے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی۔ اس تجویز کے لئے لیبرجماعت کی حمایت نہ ہونے کا مطلب ہوگا کہ اس میں شکست یقینی ہے۔ بورس جانسن کی اس سے پہلےقبل ازانتخابات کے لئے دو درخواستیں مسترد کی گئیں ہیں ، لیکن لیب ڈیمز اور ایس این پی نے جانسن کو تعطل سے نکلنے کا راستہ پیش کیا ہے۔ لیب ڈیم کے رہنما جو سونسن اور ایس این پی کے ویسٹ منسٹر رہنما ایان بلیکفورڈ نے سخت مسودہ تیار کیا ہے جس کے تحت 9 دسمبر کو انتخابات کی منظوری دی جاسکتی ہے،یعنی وزیر اعظم کی تجویز کردہ پولنگ کی تاریخ سے تین دن پہلے۔
تاہم پارلیمنٹ کی تحلیل کیلئے مسودہ قانون کیلئے،جو فی الحال منگل کے روز اجلاس کے لئے طے شدہ ہے، 320 ممبران پارلیمنٹ کی سادہ اکثریت درکار ہے ،اُدھر 10ڈاؤننگ اسٹریٹ نے اشارہ کیا کہ وہ ممکنہ سمجھوتہ کی پیش کش میں حامی جماعتوں کی تجاویز کی حمایت کرنے کے لئے تیار ہوسکتی ہے،اوراگر حکومت کی طرف سے انتخابات کے لئے درخواست ختم ہوجاتی ہے ، تو ، ہم بریگزٹ کو دیگر اپوزیشن جماعتوں کے تجویز کردہ نظریات کے ساتھ ہی انجام دینے کے لئے تمام آپشنز پر نظر ڈالیں گے۔اگر بل منگل کو منظورکرلیا گیا تو، پھر جمعرات تک شاہی منظوری حاصل ہونےکا امکان ہے اور دسمبر کے پہلے ہفتے میں پارلمیمنٹ تحلیل ہوکرانتخابات کی تیاریاں شروع ہوجائیں گی۔