داعش سرغنہ بغدادی کی موت معمہ،بیگمات نےمارا یا امریکہ نے۔۔؟؟

اپنی سفاکی اور انسانیت سوز مظالم سے شہرت پانے والی دہشت گرد تنظیم داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کو مارنے کا دعویٰ گذشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا، ان کا کہنا تھا کہ بغدادی کو ادلب کے مضافات میں امریکی فوج کے اسپیشل آپریشن کے دوران مارا گیا جبکہ اطلاعات ہیں کہ امریکی آپریشن کی اطلاع ملنے پر بغدادی کی دوبیگمات نے خود کو دھماکے سےاڑا لیا جس کے نتیجے میں ابوبکر البغدادی بھی ہلاک ہوگیا۔امریکی ذرائع ابلاغ میں متعدد سرکاری حکام کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ اپنے ٹھکانے پر امریکی ٹاسک فورس کے حملے کےبعد ابوبکر البغدادی نےخود ہی اپنی کمر سے بندھی دھماکا خیز جیکٹ کو اڑا لیا۔ جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا  بغدادی روتے چلاتے ہوئے زندگی کی بھیک مانگتا رہا   اور ایک دھماکے سے مارا گیا جبکہ بغدادی کی دو بیویاں بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں خواتین نے بھی خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں، تاہم وہ اپنے آپ کو دھماکے سے نہ اڑا سکیں۔

اتوار کوامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس میں اس آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی اسپیشل فورسز کےہیلی کاپٹر ہفتے کے روز ایک نامعلوم مقام سے امریکی وقت کے مطابق شام پانچ بجے اور پاکستانی وقت کے مطابق اتوار کی صبح دو بجے)آپریشن کے لیے روانہ ہوئے۔ اس آپریشن کو دیگر رہنماوں کے ساتھ وائٹ ہاؤس کے سچوئیشن روم سے مسلسل مانیٹر کیا گیا۔

آپریشن کے حوالے سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق اسپیشل فورسز کےہیلی کاپٹرزکواپنا سفرطےکرنےمیں تقریباً ایک گھنٹہ دس منٹ کا وقت لگا جبکہ آپریشن مکمل کرنے میں دو گھنٹے لگے،فورسزنےادلیب صوبے کے باریشا نامی گاؤں کے قریب ایک چھوٹے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا جو ترکی کی سرحد سے پانچ کلومیٹر جنوب کی جانب واقع ہے۔ ادلیب شامی صدر بشار الاسد کی مخالف قوتوں کا آخری گڑھ ہے۔ اس صوبے میں جہادی اتحاد کے لوگوں کی اکثریت ہےجو نام نہاد دولتِ اسلامیہ کےسخت مخالف ہیں۔ تاہم یہ خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے سینکڑوں دہشت گرد اب بھی اسی صوبے میں مقیم ہیں جبکہ روس کی حمایت یافتہ شامی فوج مشرق، مغرب اور جنوب میں موجود ہے۔

اسپیشل فورسز کےہیلی کاپٹرز ترکی کی فضائی حدود سے ہوتے ہوئے شام اور روسی فوجوں کے زیر اثر علاقوں کے اوپر سے گزرے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق روس کو حالانکہ اس آپریشن کے حوالے سے نہیں بتایا گیا تھا پھر بھی انھوں نے تعاون کرتے ہوئے فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے دی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘پرواز کا وہاں پہنچنے اور وہاں سے نکلنے والا حصہ بہت زیادہ خطرناک تھا۔ اس بات کا بھی امکان تھا کہ ہمیں کہیں سے بھی فائرنگ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم نے انتہائی تیز رفتار اور نیچی پرواز کی۔’

جیسے ہی ہیلی کاپٹرز کمپاؤنڈ کے نزدیک پہنچے تو انھیں ‘مقامی فائرنگ’ کا سامنا کرنا پڑا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اس مزاہمت کا فوری جواب دیا گیا۔ ہیلی کاپٹرز آدھے گھنٹے تک فائرنگ کرتے رہے جس کے بعد فوجیوں نے زمینی آپریشن کا آغاز کر دیا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہیلی کاپٹرز نے دو گھروں پر میزائل فائر کرکے انھیں ڈھیر کر دیا۔ جب ہیلی کاپٹرز اترے تو سپیشل فورسز کے اہلکاروں نے دیواروں میں سوراخ کیے تاکہ انھیں مرکزی دروازے سے نہ گزرنا پڑے، جہاں بارود نصب تھا۔ اس کے بعد وہ کمپاؤنڈ میں داخل ہو گئے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق بغدادی کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب وہ ‘ایک ایسی سرنگ میں گھس گیا جس کے آخر میں کوئی راستہ نہیں تھا اور وہ چلا رہا تھا، رو رہا تھا اور شور مچا رہا تھا۔ کمپاؤنڈ کو اس وقت تک مکمل طور پر کلیئر کر لیا گیا تھا اور باقی لوگوں کو یا تو ہلاک کردیا گیا یا پھر انھیں حراست میں لے لیا گیا۔ 11 بچوں کو اس کمپاؤنڈ سے بحفاظت نکال لیا گیا۔ تین بچوں کو بغدادی اپنے ساتھ اس سرنگ میں لے گیا تھا جہاں ان کی ہلاکت یقینی تھی۔ وہ سرنگ کے آخر تک پہنچا جہاں ہمارے کتوں نے اس کا تعاقب کیا۔ اس اثنا میں اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا اور اس کے ساتھ وہ تین بچے بھی ہلاک ہو گئے۔ اس کی لاش اس دھماکے کے نتیجے میں مسخ ہو گئی۔ اس کے علاوہ سرنگ کی چھت بھی بغدادی پر جا گری۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جس شخص نے اپنے آپ کو سرنگ کے آخر میں جا کر دھماکے سے اڑا دیا تھا اس کی لاش پر کچھ ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد ‘ان کی شناخت کر لی گئی اور اس بات کا مکمل یقین کر لیا گیا’ کہ وہ شخص بغدادی ہی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ ٹیسٹ ٹیم میں موجود ماہرین کی مدد سے اسی وقت کیے گئے اور ان کے پاس بغدادی کے ڈی این اے کے نمونے موجود تھے۔ ٹرمپ کے مطابق یہ ماہرین اس کی لاش کے ‘ٹکڑے’ ہیلی کاپٹرز میں واپس بھی لائے۔

دوسری جانب بغدادی کی ہلاکت کے حوالے سے آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی۔ دولتِ اسلامیہ کے حامی بھی ایک دوسرے کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ امریکہ کے اس اعلان پر بھروسہ نہ کریں۔ ادھر ٹرمپ کہتے ہیں کہ کسی امریکی اہلکار کی اس آپریشن میں ہلاکت نہیں ہوئی جبکہ بغدادی کے ساتھیوں کی ایک بڑی تعداد آپریشن میں ہلاک ہوئی ہے،صدر ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج کا ایک کتا اسی سرنگ میں زخمی ہوا جہاں بغدادی کی ہلاکت ہوئی۔

 

Share This Article

تازه ترین