سوشل میڈیا نے آج کی دنیا کے لوگوں کو جہاں ایک دوسرے سے جوڑ رکھا ہے اور پل پل کی خبر اس پر مل جاتی ہے جبکہ کوئی بھی بات لمحوں میں ہی دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچ بھی جاتی ہے وہیں اس سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کی وجہ سے جھوٹ کا پرچارہورہا اور منفی پروپیگنڈہ تیزی سے دنیا بھر میں پھیل رہا ہے اکثر ایسی خبریں، وڈیوز اور تصاویر اپ لوڈ کردی جاتی ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں ہوتا۔ سوشل میڈیا کے صارفین کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کسی بھی خبر، تصویر یا وڈیو کو دیکھ کر بنا تصدیق و تحقیق آگے نہ بڑھایا کریں ورنہ اس سے کسی کا نقصان ہوسکتا ہے یا کسی کی زندگی تباہ ہوسکتی ہے۔

سوشل میڈیا کی دنیا میں مشہور ہونے والی چند تصاویر اور ان کی حقیقت سے ہم آپ کو آگاہ کررہے ہیں جس کی سچائی آپ کو حیرت میں تو ڈال ہی دے گی لیکن آپ کو یہ اندازہ بھی ہوجائے گا کہ جھوٹ کو کتنی صفائی سے سچ کا رنگ دیا جاتا ہے۔

1۔ بیگنی رنگ نہیں بلکہ اصلی قدرتی رنگ

اس تصویر کو دیکھ کر اکثر لوگ مبہوت ہوجاتے ہیں کہ کوئی ایسی بھی جگہ ہے جہاں پیڑ پودے، درخت سب کے سب بیگنی یا اودے رنگ کے ہیں، لوگ ایسی جگہ کی تلاش میں انٹرنیٹ چھان مارتے، ٹریول ایجنٹس کا دماغ کھا جاتے لیکن حقیقت آپ کے سامنے ہے کہ یہ سب فوٹو شاپ کا کمال ہے اصل جگہ اپنے قدرتی رنگ پر ہی ہے یہ تصویر نیوزی لینڈ کے دریائے شاٹ اوور کے ایک مقام کی ہے۔

چاند ستارے والا جزیرہ:

اگرچہ قدرت سے کچھ بعید نہیں لیکن سچ اور جھوٹ کی تفریق اپنی جگہ کیونکہ قدرت اور فطرت جھوٹ نہیں بولتی ، کئی برسوں تک لوگ یہی سوچتے رہے کہ کوئی جزیرہ ایسا ہے کہ جو چاند اور ستارے کی شکل کا ہے جبکہ حقیقت میں ہوائی میں ماوئی اور کہولاوی کے درمیانی علاقے میں مولوکونی نام کا  ایک جزیرہ واقع ہے جو قدرتی طور پر چاند کی شکل کا ہے لیکن اس کے ساتھ ستارہ نہیں بلکہ یہ فوٹو شاپ کا کمال ہے۔

زیرِ سمندر آئس برگ

یہ ایک ایسی تصویر ہے جسے اکثر لوگ اپنے کمپیوٹر ڈیسک ٹاپ پر یہ سوچ کر لگاتے ہیں کہ کیا کمال کا قدرتی شاہکار ہے کہ ایک برفانی پہاڑ یا ائس برگ پانی کے اوپر جتنا اس سے کہیں زیادہ پانی کے نیچے اور شفاف پانی میں اس کا بہترین عکس بھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک نہیں بلکہ 4 مختلف فوٹو گرافس کا کمال ہے اس فوٹو کو بنانے والے رالف کلیونگر کے مطابق بادلوں کی تصویر سانتا باربرا کیلیفورنیا، آئس برگ کے اوپری حصے کی تصویر انٹارکٹیکا اورپانی کے اندر نظر آنے والے پہاڑ کا حصہ الاسکا میں کھینچا گیا اور شکر ہے کہ چاروں تصاویر کی لائٹنگ اچھی تھی جس کے نتیجے میں اسے ملاکر ایڈیٹ کرکے یہ ایک تصویر بنائی گئی۔

سڑکوں پر تیرتی شارک

سوشل میڈیا پر 2017 میں وائرل ہونے والی اس تصویر میں لوگوں کو گمراہ کیا گیا کہ ایک سمندری طوفان کے بعد ایک خوفناک شارک سڑکوں پر تیر رہی ہے جبکہ اصل میں یہ بھی ایڈیٹڈ ہے اور اصلی تصویر میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شارک اطمینان سے اپنے قدرتی گھر یعنی سمندر میں تیر رہی ہے۔

گمشدہ یتیم

یہ جذباتی تصویر 25 اپریل 2015 میں نیپال کے زلزلے کے بعد وائرل کی گئی جس میں بتایا گیا کہ زلزلے سے خوفزدہ ایک معصوم بچی کو اس کا کم سن بھائی اپنی آغوش میں چھپارہا ہے اس تصویر پر لاکھوں جذباتی کمنٹس ہوئے اور لووگوں نے بھائی بہن اس کے اس پیارپر دل کھول کر داد بھی دی، یقیناً بھائی ہی بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں لیکن تصویر کا سچ یہ ہے کہ فوٹو گرافر ناسون گویوں بتاتی ہیں کہ میں نے  یہ تصویر 2007 میں ویتنام میں اس وقت کھینچی جب ایک انٹریو کیلئے ایک بستی میں گئی تو یہ بچے کھیل رہے تھے لیکن اجنبی افراد کو دیکھ کر بچی خوفزدہ ہوئی تو اس کے بھائی نے اسے چھپانے کی کوشش کی مجھے یہ انداز اچھا لگا اور اسی وقت تصویر بنالی۔بعد میں یہ تصویر ویتنام کے فیس بک پیج پر بہت مشہور ہوئی اورکچھ لوگوں نے اسے ایڈیٹ کرکے "گمشدہ یتیم” کا نام دیتے ہوئے، اور کسی نے انھیں برمی یتیم کہا تو کسی نے ویتنام کے سول وار کا یتیم اور کسی نے نیپال کے زلزلے سے خوفزدہ بچے، لیکن سچ کیا ہے ہم نے آپ کو بتادیا۔

کار کے بونٹ پر گائے

یہ غالباً 2013 کے شروع کی بات ہے جب یہ تصویر وائرل ہوئی کہ ہالینڈ میں ایک صحت مند گائے ایک قیمتی بی ایم ڈبلیو کار کے بونٹ کی گرمی لیتے ہوئے آرام کررہی ہے، لیکن 18 اکتوبر 2013 کو اس تصویر کو اور زیادہ شہرت ملی جب مقامی پولیس نے اپنے ٹوئٹر اکاونٹ پر اس تصویر کو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ دن بدن سردی بڑھتی جارہی ہے لیکن ایک گائے نے خود کو گرم رکھنے کیلئے کار کا گرم بونٹ ڈھونڈ لیا ہے۔ بعد میں اس تصویراور ٹوئٹر پوسٹ کو دنیا بھر میں مقبولیت ملی اور لاکھوں مرتبہ اسے شیئر کیا گیا جبکہ اصل میں یہ تصویر ایڈیٹڈ ہے، سچ آپ کے سامنے ہے۔

جناتی بلی

تقریباً 16 برس قبل 2003 میں اس دیوہیکل بلی کی تصویر انٹرنیٹ پر مقبول ہونا شروع ہوئی اور ہر کوئی اسے دیکھ کر حیرت زدہ ہوتا تھا کہ کیا کوئی بلی اس قدر بڑی بھی ہوسکتی ہے اور دعویٰ کیا گیا کہ بلی کا وزن 87 پونڈ ہے، حقیقت میں اس بلی کا نام ” جمپر” ہے اور یہ عام بلی کے قد و قامت اور وزن کی ہی ہے، لیکن اس کے مالک کارڈیل ہوگلی کو ایک مذاق سوجحا اور انھوں نے فوٹو شاپ سے ایڈیٹ کرکے اپنی پالتو عام بلی کو اتنا بڑا دیا لیکن انھیں یہ قطعی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا مذاق انھیں اور ان کی بلی کو عالمی سطح پر اتنی شہرت دلادے گا، لیکن بہرحال یہ ہے تو جھوٹ ہی۔

پیوٹن کے سینگ

روس میں ایک مارشل آرٹ اسکول کے دورے کے موقع پر معروف اداکار اسٹیون سیگال کی اسکول کے طلبہ ،روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور کچھ دیگر شخصیات کے ساتھ ایک تصویر بنائی گئی اور اسے خبر کے ساتھ انٹرنیٹ پر ڈال دیا گیا لیکن کسی نے شرارت کرتے ہوئے اس تصویر کو ایڈیٹ کرکے اسٹیون سیگال کی دو انگلیوں سے پیوٹن کے سر پر سینگ سے بناادیئے، اس تصویر کو تو پھر ایسا لگا کہ پر لگ گئے ہوں اور راتوں رات اسے دنیا بھر میں شہرت مل گئی لیکن اداکار نے اس تصویر پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایڈیٹڈ قرار دیا اور ساتھ ہی اصلی تصویر بھی پوسٹ کردی تاکہ سچ اور جھوٹ کا پتہ چل سکے۔

لٹکتی چیخ

ستمبر 2016 میں برطانوی وزیراعظم تھریسیا مے اور ان کی کابینہ کے 27 وزراء کے ایک گروپ فوٹو نے انٹرنیٹ پر اس وجہ سے پر شہرت پائی کہ ان ارکان کے عقب میں "لٹکتی چیخ” کے عنوان سے مشہور ایڈورڈ منچ کی تصویر نمایاں تھی، جبکہ اس تصویرکو بھی ایڈیٹ کیا گیا تھا جبکہ اصل تصویر میں آپ دیکھ ساکتے ہیں کہ گروپ ارکان کے عقب میں ایک آرٹ پکچر لگی ہوئی ہے۔

سوشل میڈیا کے ان سچ نما جھوٹ جاننے کے بعد ہم امید کرتے ہیں کہ قارئین یہ عہد ضرور کریں گے کہ وہ سوشل میڈیا کی کسی بھی پوسٹ پر آنکھ بند کرکے یقین نہیں کریں گے بلکہ تحقیق و تصدیق کے بعد ہی اسے کسی کو شیئر کریں گے ویسے بھی آج کے ٹیکنالوجی کے دور میں تو دنیا بھر کی معلومات آپ کے فنگر ٹپس پر ہیں تو بنا تحقیق جھوٹ پھیلا کر گناہ اپنے سر کیوں لیں۔۔۔؟؟

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے