فرانس: مسجد کو آگ لگانے اور فائرنگ کرنے والا 84 سال کا ملزم

میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس میں ایک مسجد کے باہر فائرنگ کرکے دو بزرگ افراد کو زخمی کرنے والے شخص کو پولیس نے گرفتارکرلیا ہے،پولیس کے مطابق اس شخص کو فائرنگ کے کچھ دیر بعد اس کےگھر سے گرفتار کیا گیا۔

فائرنگ کا یہ واقعہ فرانس کے جنوب مغربی شہر بے یون میں پیش آیا۔ اس شخص نے اس وقت فائرنگ کرکے دوافراد کو زخمی کیا جب انہوں نے اسے مسجد کو آگ لگانے سے روکنے کی کوشش کی۔شدید زخمی ہونے والے ان دونوں افراد کی عمریں 74 اور 78 برس ہیں۔فرانسیسی حکام کے مطابق بے یون شہر میں فائرنگ کے اس واقعے کے بعد اس مشتبہ شخص نے فرار ہونے سے قبل ایک کار کو بھی آگ لگا دی۔

مقامی میڈیا کے مطابق ملزم انتہائی عمر رسیدہ ہے اور کی عمر 84 برس ہے اس کے اس اقدام کے پیچھے کارفرما وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔ فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں کہا کہ وہ مسجد پر کیے جانے والے اس ‘قابل نفرت‘ حملے کی ‘شدید مذمت‘ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانس نفرت انگیزی کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ اپنے اس پیغام میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ذمہ داروں کو سخت سزا دینے اور مسلم آبادی کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا۔

پولیس کی طرف سے اس مشتبہ شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص ،مارین لے پین کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی پارٹی کا سابق امیدوار بھی ہے۔ اس جماعت کے ایک ترجمان نے جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ فرانسیسی میڈیا کی یہ بات درست ہے تاہم مذکورہ شخص کو 2015ء میں پارٹی سے نکال دیا گیا تھا۔

دوسری طرف لی پین نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی تحریک کے اقدار کے خلاف ہے۔بے یون شہر میں اس حملے سے کئی گھنٹے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں نے مسلم رہنماؤں سے ملاقات کی تھی جس میں مسلم آبادی سے متعلق معاملات پر بات چیت کی گئی تھی۔

 

Share This Article

تازه ترین