شناختی کارڈ کی شرط اور ٹیکس کا نفاذ نہیں مانیں گے، تاجروں کی ضد

نئے ٹیکسوں اور شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق حکومتی پالیسی کے خلاف ملک بھر میں تاجروں کی جانب سے دوو روزہ ژٹر ڈاون ہڑتال چل رہی ہے آل پاکستان انجمن تاجران اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہونے کی وجہ سے تاجر برداری آج اور کل ملک بھر میں احتجاج کررہی ہے،جبکہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے تاجر برادری سے مذاکرات کیئے ہیں۔

تاجروں سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر حفیظ شیخ نے میڈیا کو بتایا کہ تاجر برادری ملک کی معیشت کے اہم ترین اسٹیک ہولڈرز ہیں، ان سے بہتر ماحول میں بات ہورہی ہے اور انھیں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس دینے سے ہی ملک کی معیشت بہتر ہوگی، ٹیکس دینے سے ہی حکومتیں مضبوط اور تاجر و عوام خوشحال بنیں گے۔

اس سے قبل رواں ماہ 9 اکتوبر کو اسلام آباد میں ملک بھر کے تاجروں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے دوران تاجروں کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی کوشش پر پولیس کی جانب سے لاٹھی چارج بھی کیا گیا تھا، حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹ، اسپورٹس اور سرجیکل آلات کیلئے زیرو ریٹنگ سہولت ختم کرکے واپس 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے اور 50 ہزار سے زائد کسی بھی قسم کی خرید و فروخت میں شناختی کارڈ کا ریکارڈ رکھنے کی شرط کے خلاف تاجر برادری نے 13 جولائی کو بھی ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی تھی۔

دوسری جانب دو روز قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اعتراف کیا کہ شناختی کارڈ کی شرط کی وجہ سے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں، اس پر ہمارے پاس دو راستے ہیں، شناختی کارڈ کی شرط ختم کردیں یا کوئی درمیانی راستہ نکالیں۔ تاہم بعد ازاں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں اور ایف بی آر اپنی پوزیشن پر قائم ہے لہٰذا 50 ہزار کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط پر نرمی نہیں برتی جائے گی۔

دو روز قبل صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ  نے اعلان کیا تھا کہ  آئی ایم ایف سے سخت شرائط کے تحت معاہدے نےکاروبار کو تباہ کردیا ہے جس کے خلاف ملک بھر کی تاجر برادری پرزور احتجاج کرے گی۔ تاجر برادری کی ہڑتال کے باعث وہاڑی، گوجرانوالہ، حافظ آباد اور مظفر گڑھ سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں  مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند کرکے  سڑکوں پر نعرے بازی کی جارہی ہے جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ادھر صدر چیمبر آف کامرس میاں عمر سلیم نے بھی تاجر برادری کے احتجاج کی حمایت کی ہے۔

دوسری جانب تاجروں کی ملک گیر ہڑتال کے بعد مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ متحرک ہوگئے ہیں اور انہوں نےتاجرو‍ں کو مذاکرات کیلئے وزارت خزانہ مدعو کیا۔ذرائع کا کہنا  ہے کہ مذاکرات میں تاجروں کو مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ،مشیر خزانہ کے طلب کیے جانے پر تاجروں کے رہنما، خواجہ محمد شفیق، کاشف چودھری اورنعیم میرمذاکرات کیلئے وزارت خزانہ پہنچے ۔

 

 

Share This Article

تازه ترین