نواز شریف نے بلاول سے ملاقات سے کیوں انکار کیا۔۔۔؟؟

پیپلز پارٹی قیادت تاحال اس بات پر حیران و پریشان ہے کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف سب سے مل رہے ہیں لیکن انھوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات سے انکار کیوں کیا ہے پارٹی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی جانب سے پیر کی شام کیلئے ملاقات کا پیغام بھجوایا گیا تھا، لیکن ن لیگ کا مؤقف تھا کہ ڈاکٹرز ملاقات کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ دوسری جانب مریم نواز سمیت لیگی رہنما نواز شریف کی عیادت کرتے رہے۔

یہ خبر تو چھوٹی سی تھی لیکن اپنے اندر بہت بڑی خبر لیئے ہوئے ہے، اس سے قبل بھی بیان کیا جاچکا ہےکہ میاں نواز شریف کو اس بات کا ادراک ہے کہ ان کی صحت اب اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ سیاسی امور کی نگرانی کرسکیں اور زیادہ دیر تک داعی اجل کو انتظار کرائیں، اورویسے بھی ایک دن اللہ کے پاس جانا ہی ہے تو کیوں نہ کوئی ایسا کام کیا جائے کہ بعد میں اولاد کیلئے سیاسی راہیں ہموار و ماحول ہی سازگار بن جائے۔

کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا کہ اگر اللہ نہ کرے اسپتال میں ہی میاں نواز شریف کو کچھ ہوگیا تو مسلم لیگ ن کو بھٹو مل جائے گا ایک ایسا بھٹو جو تازہ بھی ہے اور سیاسی طور پرمضبوط بھی ویسے بھی لوگ پرانے بھٹو سے اب عاجز آئے ہوئے ہیں، لیکن نواز شریف کے نزدیکی افراد نے انھیں یہی مشورہ دیا کہ بھٹو بننے میں اگر کوئی رکاوٹ ہوسکتی ہے تو وہ خود بلاول زرداری ہیں جو زرداری خاندان سے ہوکر بھی بھٹو خاندان کو استعمال کررہے ہیں اسلیئے ان سے زیادہ قربتیں اچھی نہیں بلکہ دوریاں ہی بھلی۔

یہ ایک ٹھوس وجہ ہے کہ میاں نواز شریف بلاول بھٹو سے جہاں تک ممکن ہو ملنے سے کترا رہے ہیں کیونکہ انھیں اپنی پارٹی کا الگ تشخس برقرار رکھتے ہوئے اپنے بعد اپنی بیٹی مریم نواز اور حس و حسین نواز کیلئے سیاسی میدان تیار کرکے جانا ہے جس کیلئے پیپلز پارٹی سے دوریاں پہلی شرط ہے، اگرچہ آج نہیں تو کل بلاول کو نواز شریف کی عیادت کی اجازت مل ہی جانی ہے تاہم ایک انکار نے مستقبل کے سارے اقرار پر پانی پھیر دیا ہے۔

کیونکہ ملاقات سے انکار پر پیپلز پارٹی کی قیادت کو اس بات پر بھی حیرانی ہے کہ ہفتے کے روز قمر زمان کائرہ پانچ رکنی وفد کے ساتھ نواز شریف کی عیادت کرنے گئے تھے لیکن ڈاکٹرز کو اعتراض نہ ہوا۔ اس موقع پر مریم نواز اور شہباز شریف سے بھی پیپلز پارٹی کے وفد کی ملاقا ت ہوئی تھی۔ لیکن اب پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات سے لیت و لعل پر حیر ت زدہ ہے، کہ بلاول سے ملاقات سے نواز شریف کی ہچکچاہٹ کی وجہ حکومتی دباؤ ہے یا مولانا فضل الرحمان سے معاملات ہیں، کیوں کہ پیپلز پارٹی آزادی مارچ کو دھرنے کی شکل دینے کی مخالف ہے۔ بلاول بھٹو اپنے والد آصف علی زرداری کی عیادت کے لیے پیر کی سپہ پہر پمز اسپتال گئے تھے، جس کے بعد انھوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شکوہ کیا تھا کہ حکومت میاں نواز شریف کو بہترین طبی سہولیات فرااہم کررہی ہے لیکن آصف زرداری کو مظلوبہ سہلوت حاصل نہیں۔

 

 

Share This Article

تازه ترین