سائنس و ٹیکنالوجی کے اس دور نےجہاں انسان کیلئے بے پناہ آسانیاں پیدا کردی ہیں وہیں ایک طرح سے انسان مفلوج اور ٹیکنالوجی کا محتاج بھی بن چکا ہے اوراس ٹیکنالوجی کے استعمال اوراسے کے بھرپور فائدے کیلئے ہمیں انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کی ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے انٹرنیٹ کو اگر ایک دن کیلئے بند کردیا جائے تو اس دور میں مالیاتی سطح پر یقیناً اربوں ڈالرز کا نقصان ہوگا لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات کہ سماجی رابطے منقطع ہونے کی بنا پر شاید، سینکڑوں ہزاروں لوگون کی سانسیں ہی بند ہوجائیں۔

اس کی ہلکی سی جھلک منگل کو نظر آئی جب پاکستان میں انٹرنیٹ سروس میں معمولی تعطل پیدا ہوا جس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر اداروں کی سرگرمیاں اور ان کا آپریشن بری طرح متاثر ہوا ہے، منگل کی سہ پہرسےہی ملک بھر میں صارفین کو اچانک انٹرنیٹ اسپیڈ میں نمایاں کمی اور براوزنگ میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ ہی دیر میں سوشل میڈیا سمیت فون اور دیگر رابطوں کے ذریعے لاکھوں افراد یہ پوچھتے نظر آئے کہ انٹرنیٹ کو کیا ہوا، آپ کا نیٹ کیسا چل رہا ہے۔

اس حوالے سے پاکستان ٹیل کمینویکیشن کمپنی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ سمندر میں بچھی ہوئی انٹر نیٹ کی بڑی بڑی تاروں میں خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ کی سروس میں خلل پیدا ہوا ہے۔’ہم افسوس کے ساتھ اعلان کرتے ہیں بین الاقوامی زیر آب کیبلز میں خرابی کی وجہ سے پاکستان بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی ہے۔‘ ادارے کا مزید کہنا تھا کہ ان کی ٹیکنیکل ٹیم اس مسئلے کو حل کر کے انٹرنیٹ سروسز پوری طرح بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ’آپ کو اگر کسی تکلیف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو ہم اس پر معذرت خواہ ہیں ۔

انٹرنیٹ سروس میں تعطل کی وجہ سے پاکستان کے متعدد مالیاتی اداروں اور بینکوں کا آپریشن متاثر ہوا جبکہ قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کا آپریشن بھی بری طرح متاثر ہوا اور پی آئی اے نے بھی سوشل میڈیا پر آپریشن مین خلل کا پیغام شیئر کردیا۔ یہ تو ایک معمولی سی خرابی تھی جس نے سب کچھ تھوڑی دیر کیلئے ہی صحیح لیکن مفلوج کردیا اور اگر کوئی بڑی خرابی آجائے اور پورا دن ہی انٹرنیٹ سروس بند رہے تو سوچیں کیا ہوگا۔۔؟؟ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا کی تقریباً آدھی آبادی انٹرنیٹ استعمال کر رہی ہے، اور اس تعداد میں ہرسیکنڈ اضافہ ہو رہا ہے،عام افراد، حکومتیں، افواج، کاروباری ادارے، ہوائی کمپنیاں، صنعتیں، تعلیمی ادارے، میڈیا، غرض دنیا کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو انٹرنیٹ پر انحصارنہ کرتا ہو۔

انٹرنیٹ سروس بند ہونا کوئی بہت بعید از قیاس بات نہیں ہے،قومی یا بین الاقوامی پیمانے پر سائبر حملوں سےانٹرنیٹ میں خلل ڈالا جاسکتا ہے، انٹرنیٹ کی تاریں سمندر کے نیچے سے ہوتی ہوئی ملکوں اوربراعظموں کو آپس میں ملاتی ہیں، یہ تاریں کسی وجہ سے کٹ سکتی ہیں، یا کاٹی جا سکتی ہیں یا ان میں کسی سمندری طوفان، زلزلے یا کسی بھی وجہ سے خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔

بعض ملکوں کے پاس ‘کِل سوئچ’ ہیں، جن کی مدد سے وہ تمام ممالک کا انٹرنیٹ کاٹ سکتے ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ کو سب سے بڑا خطرہ شمسی شعلوں سے ہے۔ سورج سے نکلنے والے ان شعلوں کی لہریں زمین تک پہنچ کر نہ صرف انٹرنیٹ بلکہ مواصلاتی نظام کو بھی درہم برہم کر سکتی ہیں۔ لیکن انٹرنیٹ میں پڑنے والے کسی بھی خلل کو دور کرنے کے عمدہ انتظامات موجود ہیں اور ماہرین کی فوج در فوج اسے ٹھیک کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔

لیکن ایسی کسی بھی وجہ سے ساری دنیا کا انٹرنیٹ ایک دن کے لیے کٹ جائے تو کیا ہو گا؟اگرچہ ایک دن کیلئے انٹرنیٹ سروس بند ہونے کی صورت میں مالی نقصانات کا اندازہ تو شاید نہ لگایا جاسکے لیکن یہ ضرور ہے کہ جس دیوانگی کی حد تک لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے اور سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں ان کیلئے وہ ایک دن شاید کیس قیامت سے کم نہ ہوگا، اب آپ خود اندازہ کریں کہ اگر آپ کا انٹرنیٹ ایک دن کیلئے آپ سے دور کردیا جائے کہ آپ کسی صورت اسے استعمال نہ کرسکیں تو آپ کا ردعمل اور احساسات کیا ہوں گے بس اسی احساس و ردعمل کو اجتماعی طور پر سوچیں منظر آپ کے سامنے واضح ہوجائے گا یہاں ایک انٹرنیٹ صارف کا اس حوالے سے ایک جملہ آپ کو مزہ دے گا جس کا کہنا ہے کہ اگر انٹرنیٹ مجھ سے دور کردیا جائے تو ایسا لگے گا کسی نے میرے ہاتھ پاوں کاٹ کر میرے دماغ کو بھی مفلوج کردیا ہے۔

ایک اور صارف کہتے ہیں کہ جب میں اپنا فون گھر بھول جاؤں تو ایسا لگتا ہے جیسے میں نے کپڑے نہیں پہن رکھے۔ میں سوچتا ہوں، کیا مجھے راستے کا پتہ ہے؟ اگر گاڑی خراب ہو جائے تو کیا ہو گا؟’یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کی سٹائن لومبورگ انٹرنیٹ کے سماجی پہلو کی اہمیت سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ‘انٹرنیٹ تک ایک دن کے لیے رسائی بند ہو جائے تو دنیا تباہ و برباد نہیں ہو جائے گی، لیکن بہت سے لوگوں کے لیے انٹرنیٹ کے بغیرایک دن گزارنےکا خیال ہی بڑا خوفناک ہو گا۔’

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے