دنیا میں فضائی آلودگی کے اعتبار سے 28 اکتوبر کو پہلے نمبر پر آنے والے پاکستانی شہر لاہور سے یہ شرمناک اعزاز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی نے چھین لیا ہے اور اب پنجاب کا دارالحکومت لاہور دوسرے نمبر پر آگیا۔ امریکی ائیر کوالٹی انڈیکس کے مطابق فضاء میں گرد کے ذرات (پی ایم 2.5) کی تعداد 35 مائیکرو گرام فی مکعب میٹرسے زیادہ نہیں ہونی چاہیے جبکہ 28 اکتوبر کو ایک موقع پر لاہورکی فضاء میں ان ذرات کی تعداد 10 گنا زیادہ یعنی 330 کے قریب پائی گئی جس کی وجہ سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پرآگیا تھا تاہم اب نئی دہلی دوبارہ دنیا کا آلودہ ترین شہربن گیا ہے، ٹاپ ٹین میں کراچی بھی شامل ہے۔
انڈیکس کے مطابق اس وقت دہلی میں یہ 440 درجے پر ہے جو کہ انتہائی خطرناک صورتحال ہے، دہلی میں فضائی آلودگی کی وجہ دیوالی ہےجہاں گزشتہ دنوں بڑی تعداد میں پٹاخےجلائے گئے تھے۔ آئی کیو ائیر کی فہرست میں 10 آلودہ ترین شہروں میں پاکستان کے 2 بڑے شہر لاہوراور کراچی شامل ہیں۔لاہور میں یہ 227 درجے پر ہے جو کہ انتہائی مضر صحت ہے جبکہ کراچی اِس فہرست میں ساتویں نمبرپر ہے جہاں فضائی آلودگی کی سطح 159 درجے کے ساتھ مضر صحت شہروں کی کیٹیگری میں شامل ہے۔ اس فہرست میں ویتنام کا شہر ہنوئی، بوسنیا کا سراجیوو، ڈھاکا اور جکارتہ بالترتیب تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے نمبر پر ہیں۔ یہ اعدادوشمار 29 اکتوبر کی رات 10 بجکر 22 منٹ تک کے ہیں جو امریکی ائیر کوالٹی کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔
درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضرِ صحت ہوتی ہے جب کہ 201 سے 300 درجے تک انتہائی مضر صحت اور 301 سے زائد درجہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے،فضائی آلودگی جانچنے والے دنیا کے معتبر ادارے آئی کیو ائیر کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی فضائی آلودگی میں سرفہرست ہے جہاں ہوا میں آلودگی کی سطح انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک سطح پر ہے۔