مینار پاکستان ۔۔۔ قومی تاریخ سے سیاسی تاریخ تک

مینار پاکستان کے تاریخی احاطے کو وطن عزیز کی سیاسی تاریخ بدلنے کے حوالے سے اہم سنگ میل مانا جاتا ہے ۔

شفقنا رپورٹ:یہ ہی وہ تاریخی میدان ہے جہاں پاکستان کے معرض وجود میں آنے کی بنیاد رکھی گئی ، یعنی 1940ء میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے بڑا جلسہ ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کرکےتاریخ رقم کی تھی ۔

اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتیں بھی اپنے جلسے اسی گراونڈ میں کرکے ریکارڈ بنا چکی ہیں۔ 6 جولائی 1987ء کولاکھوں لوگ  علامہ سید عارف حسین الحسینی کی قیادت میں مینار پاکستان کے سائے تلے جمع تھے، یہ جلسہ بھی پاکستان میں ملت جعفریہ کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ہے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے بھی کئی اہم جلسوں کی گواہی مینار پاکستان کی تاریخ دے سکتی ہے

آج سے آٹھ سال پہلے  آج ہی کے دن یعنی 30 اکتوبر 2011ء میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اسی میدان میں عظیم الشان جلسہ کیا تھا جس نے پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کر کے پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ایک نیاموڑ دیا ، کہا جاتا ہے کہ  عمران خان کی سیاست میں طویل جدوجہد کواس جلسے نے  بالاخر منزل کی نوید دی تھی ۔

اکتوبر 2011ء کے جلسے نے عمران خان کی سیاسی جماعت کو حکمران جماعت بنا دیا تھا مولانا فضل الرحمن نے بھی اسی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے مینار پاکستان کو جلسے کے لیے منتخب کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بار مینار پاکستان وطن عزیز کی سیاسی تاریخ میں کون سا موڑ لے کر آتا ہے ۔کیونکہ یہ تو طے ہے کہ مینار پاکستان کے جلسے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا دھارا بدلنے کا سبب بنے۔

 

Share This Article

تازه ترین