برطانوی پارلیمنٹ کی منظوری کےبعد 12 دسمبر کو عام انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے الیکشن کی درخواست پر ہونے والی ووٹنگ کے حق میں 438 ووٹ ڈالے گئے جب کہ مخالفت میں صرف 20 ووٹ پڑے۔ برطانوی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف کامنز) سے پاس کردہ بل منظوری کے لیے ہاؤس آف لارڈز بھیجا جائے گا اور اس بات کا امکان ہے کہ یہ بل رواں ہفتے کے آخر تک قانون کا حصہ بن جائے۔ کچھ روز قبل ہی برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی درخواست پر یورپی یونین نے بریگزٹ ڈیل میں 31 جنوری 2020 تک توسیع کی منظوری دی ہے۔
وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ عوام کو اس بات کا موقع ضرور ملنا چاہیے کہ وہ اپنے مستقبل اور بریگزٹ کے حوالے سے فیصلہ کر سکیں۔ بورس جانسن پرامید ہیں کہ نئے انتخابات کے ذریعے انہیں عوام دوبارہ سے مینڈیٹ دیں گے تاکہ وہ بریگزٹ ڈیل اور پارلیمانی ڈیڈلاک کو ختم کر سکیں۔
برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت ہےکہ ہم آپس میں بیٹھیں اوربریگزٹ کومکمل کریں۔ دوسری جانب برطانوی پارلیمنٹ میں قائد حزب اختلاف اور لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کاربن کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن ملک کو تبدیل کرنے کے لیے ہماری نسل کے پاس ایک موقع ہے تاکہ عوام کے ضائع کئے گئے حقوق انہیں دوبارہ دلائے جا سکیں۔جیریمی کاربن نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں حقیقی تبدیلی کے لیے بامقصد اور فطری الیکشن مہم چلائے گی۔
برطانوی وزیر اعظم کی 5 ستمبر کو انتخابات کے حوالے سے ایک قرارداد مسترد ہوچکی ہے جس میں ایوان کے مطلوبہ 434 میں سے صرف 298 ووٹ قرارداد کے حق میں آئے تھے جبکہ 56 نے مخالفت کی تھی، اس قرارداد میں شکست کے باوجوود بورس جانسن نے ہمت نہیں ہاری اور وہ مسلسل قبل از وقت انتخابات کیلئے اپنی کوشش کرتے رہے جس کے بعد 30 اکتوبر کو ایوان نے انتخابات کے حق میں ووٹ دیدیا ہے۔