جمعیت علمائےاسلام ف کےرہنماوں کا حکومتی ٹیم اورمقامی انتظامیہ سےمعاہدہ بھی ہوچکا اورآزادی مارچ کراچی سے شروع ہوکر لاہوربھی پہنچ چکااوراب 31 اکتوبر کو کسی وقت اسلام آباد پہنچ جائے گا، لیکن یہ بات واضح ہوگئی کہ کراچی سےآغاز پرجو مولانا فضل الرحمان مارچ کی قیادت کررہے تھے، اپنی تعداد و جوش سے متاثر ہوکر اب ایک نئے فضل الرحمان کی قیادت مارچ اسلام آباد پہنچےگا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے سیاستدانوں کا مزاج رہا ہے کہ اگر کسی جلسے جلوس میں ان کے ساتھ دو چارہزار لوگ جمع ہوجائیں تو وہ یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ پوری قوم ان کے ساتھ ہے اور اگر کہیں یہ تعداد 25 یا 50 ہزار پہ چلی جائے تو ان کے مزاج آسمانوں پر ہوتے ہیں بالکل اسی طرح مولانا فضل الرحمان کو شاید خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ ان کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے تک 25 سے 30 ہزار کا مجمع برقرار رکھ سکے گا، لیکن اب وہ کافی پراعتماد اور ان کے لہجے میں دھمکیاں نمایاں ہوتی جارہی ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اب تک تیل اور تیل کی دھار کی مثال کی طرح آزادی مارچ کی نقل و حرکت پرنظررکھ رہی ہے اوران کے کچھ قائدین کچھ دیر کیلئے کنٹینر پر تو چڑھ جاتے ہیں لیکن ان کے کارکنان کی اس میں قابل ذکر شرکت نہیں ہوئی ہے، امکان ہے کہ اسلام آباد پہنچنے کے اگلے دن کم ازکم مسلم لیگ ن کے کچھ کارکنان ضروراس میں دھرنے یا مارچ میں شامل ہو کر انگلی کٹا کر شہیدوں میں نام لکھوا لیں گے۔
اب جب تعداد قابلِ ذکر ہورہی ہے تو اس بات کو مدنظر رکھنا پڑے گا کہ مولانا کے مطالبات بھی بڑے اور سخت ہوجائیں گے، انھیں پشاور موڑ کے اتوار بازار گراونڈ تک محدود رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا، اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد آمد اور یکم نومبر کو جلسے کے دوران مولانا اپنے کارکنان سے ضرور پوچھیں گے کہ اسی جگہ رکا جائے یا ڈی چوک ریڈ زون تک جایا جائے۔۔۔؟؟ اور جواب حسب توقع ہی ہوگا کہ چلو چلو ڈی چوک چلو، ویسے بھی اس بات کا برملا اظہار مولانا فضل الرحمان لاہور میں کرچکے ہیں کہ حکومت کو عوام کی رائے کا احترام کرنا ہوگا، ہم عوام کی طاقت اور اجتماعی رائے کو رد نہیں کرسکتے۔
اس کے بعد کیا ہوگا۔۔؟؟ شاید حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی ابھی تک نہیں ہے سوائے وفاقی دارالحکومت کے راستوں کو کنٹینرز کے ذریعے بند کرنے کی، جو شاید سودمند ثابت نہ ہوسکیں۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے دماغ کو کچھ مشورے دینے اور راہیں دکھانے میں ہمارے نیوز چینلز کے ان تجزیہ کاروں کا بھی ہاتھ ہے جو مسلسل ٹی وی پر بیٹھ کر اپنے تئیں تجزیہ کررہےہوتے ہیں لیکن دراصل وہ دوسرے کو راستہ بتارہے ہوتے ہیں کہ ایسا ہوجائے تو ویسا کرنا، یہاں نہیں تو وہاں جانا۔
مولانا نے اپنےکارکنان کو پہلے ہی ایک ہفتے کے کھانے پینے اور رہنے کاا انتظام کرکے آنے کی ہدایات دی تھیں اور اگر دھرنا ایک ہفتے جاری رہتا ہے تو پھر اس کے بعد اصل گیم شروع ہوگا اور جو حالات چل رہےہیں اس سےلگتا یہی ہےکہ یہ حکومت اورآزادی مارچ کے قائدین و کارکنان کے اعصاب کے درمیان ایک کشمکش ہوگی جس میں جو کامیاب ہوگیا اس کے نتائج اسی کے ارادوں کی بنیاد پر ہوں گے۔
اگرچہ حکومت اب بھی یہی کہتی ہے کہ مارچ کے شرکاء اور قائدین کو انتظامیہ سے ہونے والے معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی اور معاہدے میں یہ بات شامل ہے کہ کارکنان کسی صورت معمولات زندگی متاثر کرنے اور ٹریفک کی روانی میں خلل کا باعث نہیں بنیں گے، لیکن سوال پھر وہی پیدا ہوتا ہے کہ 10 ہزار سے زائد مجمع ہوجائے تو اسے کنٹرول کون اور کیسے کرے گا، کارکنان تو اس وقت اپنے رہنماوں کی نہیں مانیں گے حکومت و انتطامیہ کی کیسے سُن سکتے ہیں؟
اس سلسلے میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم نے بدھ کو وزیراعظم سے ملاقات میں انھیں تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے اطمینان دلایا ہے کہ جے یو آئی کے رہنما تاحال اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ وہ انتظامیہ سے ہونے والے معاہدے کے تحت جلسہ گاہ کیلئے مخصوص جگہ تک محدود رہیں گے، لیکن شاید یہ بریفنگ زمینی حقائق کے تناظر میں کل تک تو قابل عمل ہوسکتی ہے لیکن یکم نومبر سے اس پر عملدرآمد مشکل تر ہوجائے گا۔
اُدھر جے یو آئی ف کے آزادی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کے تمام پرائیویٹ اسکولز بھی 31 اکتوبر کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور ایسوسی ایشن کے صدر و سیکریٹری کہتے ہیں کہ جمعرات کی شام کو صورتحال دیکھ کر اگلا فیصلہ کیا جائے گا کہ اسکولز کب تک بند رکھنے ہیں، اسی طرح اسلام آباد کا سیکٹر ایچ 8 جہاں زیادہ تر تعلیمی ادارے واقع ہیں اور یہ سیکٹر جلسہ گاہ سے نزدیک تر بھی ہے اس سیکٹر میں واقع درجنوں اسکول کالجز کی انتظامیہ بھی اپنے ادارے بند رکھنے پر غور کررہی ہے۔
اس ساری صورتحال کے تناظر میں حکومت کیلئے ایک بڑا چیلنج بننے جارہا ہے جس سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ معاملات باہر ہی باہر طے کرلیئے جائیں اور آزادی مارچ کے شرکاء آئیں ایک دن رہیں اگلے دن جلسہ کریں اور پرامن طور پر منتشر ہوجائیں ورنہ مارچ کے قائدین اوراراکین کے ارادے نیک نہیں ہیں۔