ذرائع کا کہنا ہے کہ آزادی مارچ سے متعلق وفاقی حکومت نے سیکیورٹی کے تین حصار بنانے کا فیصلہ کیا ہے سیکیورٹی حصار کے پہلے حصے میں امن و امان کے قیام اور مارچ کے شرکاء کو معاہدے کی پابندی کروانے کیلئے پولیس کو رکھا گیا ہے، جبکہ سیکیورٹی سرکل کا دوسرا حصہ رینجرز کے سپرد کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق حساس مقامات اور تنصیبات کی حفاظت کیلئے فوج کو طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں اسلام آباد میں سیکریٹری داخلہ صدارت میں بھی ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں مارچ سے متعلق انتظامات کا جائزہ لیا گیا، سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ حکومت معاہدے کی پاسداری پر تعاون کرے گی، شرکا کو براستہ روات طے شدہ روٹ پر آنے کی اجازت ہے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور ہر قسم کا اسلحہ ساتھ لانے اور معاہدے کے مطابق ریڈ زون میں داخلے پر پابندی ہے۔ اور اس فیصلے سے مارچ کے قائدین کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔