اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انٹرنیٹ سے منسلک تمام موبائل فون اور کمپیوٹر ایپلی کیشنز اور سوشل میڈیا سائٹس کبھی بھی محفوظ نہین رہیں اگرچہ متعلقہ کمپنیاں اور صارفین کا ڈیٹا محفوظ بنانے کیلئے مسلسل اقدامات کرتی رہتی ہیں لیکن ڈیتا چوری کرنے والے ہیکرز ہمیشہ ایک قدم آگے ہی رہتے ہیں اس لیئے یہ کہنا بالکل ٹھیک ہوگا کہ موبائل فون پر استعمال ہونی والی ایپس آپ کی نگرانی بھی کرتی ہیں اور جاسوسی بھی۔

اس بات کا واضح ثبوت تازہ ترین واقعہ ہے جس میں معروف سوشل میڈیا نیٹ ورک واٹس ایپ نے اسرائیلی ٹیکنالوجی کمپنی پر جاسوسی کیلئے موبائل فون ہیک کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائرکردیا ہےغیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک کی ملکیتی کمپنی واٹس ایپ نے اسرائیل کی ایک ٹیکنالوجی فرم این ایس او گروپ پر الزام عائد کیا ہےکہ فرم نے جاسوسی میں حکومت کی مدد کرنے کے لیے دنیا بھر میں اس کے صارفین کے موبائل فون ہیک کیے۔

واٹس ایپ کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فرم نے چار براعظموں میں 1400 صارفین کے موبائل فون ہیک کیے جن میں سفارتکار، سیاسی مخالفین، صحافی اور سینئر حکومتی عہدیداران کو اپنا نشانہ بنایا۔واٹس ایپ نے سان فرانسسکو کی فیڈرل کورٹ میں مقدمہ دائر کیا جس میں الزام عائد کیا گیا ہےکہ این ایس او اسرائیلی حکومت کے 20 ممالک میں جاسوسی کے عمل میں سہولت کاری کررہی ہے جن میں اب تک میکسیکو، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ممالک کی شناخت ہوئی ہے۔

واٹس ایپ کامزید کہنا ہےکہ سول سوسائٹی کے 100 سے زائد ممبران کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔این ایس او کی جانب سے واٹس ایپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں متنازع قرار دیا گیا ہے اور ان کا مقابلہ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔فرم کا کہنا ہےکہ این ایس او کا مقصد حکومت کی لائسنس یافتہ انٹیلی جنس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کو جرائم و دہشت گردی کی روک تھام کے لیے ٹیکنالوجی فراہم کرنا ہے۔جب کہ واٹس ایپ کا کہنا ہےکہ این ایس او کے حملے نے اس کے ویڈیو کالنگ سسٹم کو بری طرح متاثر کیا اور اس کے نتیجے میں متعدد موبائل وائرس سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔واٹس ایپ کے مطابق یہ وائرس این ایس او کے کلائنٹس کو یہ اختیار دے گا کہ وہ حکومت اور انٹیلیجنس اداروں کو موبائل فون کے مالکان کی خفیہ طور پر جاسوسی کا کہہ سکیں۔

رواں سال مئی میں واٹس ایپ نےاعتراف کیا تھاکہ ایک اسرائیلی کمپنی نے اس کی ایپ کی سیکیورٹی کی ایک بڑی خامی کا فائدہ اٹھا کر صارفین کے فونز اور دیگر ڈیوائسز کے پیغامات اور دیگرمعلومات تک رسائی حاصل کی ہے۔ واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ اس حملے کا نشانہ مخصوص صارفین تھے تاہم اس معاملے کو حل کیا جا چکا ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق یہ حملہ اسرائیلی سیکیورٹی فرم این ایس او گروپ نے کیا یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے واٹس ایپ نے اپنے ڈیڑھ ارب صارفین کو ایپ کو احتیاطی تدبیر کے طور پر اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے