تحریر: علی شان
پاکستان میں تاجروں نے دو روزہ ہڑتال کے بعد حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کیےاور بڑی حد تک اپنی شرائط منوا لیں حالانکہ موصوف وزیر کا کہنا تھا کہ پانچ لاکھ تاجر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جنھیں ٹیکس نیٹ میں لانا ھے مگر تاجر کسی بھی صورت خرید و فروخت کے وقت شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی کی شرط کو منظور نہیں کررہے اب یہ معاملہ بھی تاخیر کا شکار ہے ۔
مجھے حیرت اس بات پر ھے کہ دعویٰ سب کا ھے کہ وہ محب الوطن ھیں مگر جب مال دینے کا وقت آتا ھے تو سوائے اپنی منفعت کے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔جبکہ لبنان کے وزیر اعظم نے چند روز کے احتجاج
کے بعد یہ کہتے ھوئے استعفیٰ دے دیا ھے کہ اقتدار آنی جانی چیز ھے مگر عزت نفس سے بڑھکر کوئی چیز نہیں۔
بظاھر دونوں خبروں کا آپس میں کوئی ربط نہیں مگر گہرائی میں جائیں تو سمجھ آتی ھے کہ لبنان کیسے اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال لیتا ھے وھاں مختلف المذاھب افراد کثیر تعداد میں ھونے کے باوجود خون ریزی کیوں نہیں کرتے اور ھم بھارت کے سامنے اتنے بے بس ھیں کہ دسیوں ھفتوں سے کشمیر میں لگے کرفیو کے باوجود مودی سرکار اور انڈیا کی بین الاقوامی سطح پر نتیجہ خیز مذمت تک نہیں کرا سکے ھیں
حالات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہی عقدہ فشائی ھوتی ھے کہ سیاسی استحکام ھو یا ملکی ترقی کا معاملہ۔ان میں سب سے اھم عنصر عام انسان کا ذمہ دار شہری ھونا عزت نفس کا پاسدار بننا اور اپنے ذمے حکومت کے تمام ٹیکسوں کی وقت پر مکمل ادائیگی کرنے کا جذبہ ھی بنیادی کردار ادا کرتا ھے۔
ھمارے ھاں جو گذر گئے انھیں بھی ٹیکس چور کہا جا رھا ھے اور جو موجود ھیں وہ بھی ڈھٹائی سے
ٹیکس جمع کرنے کے ھر حربے کے خلاف نہایت بے شرمی سے ڈٹے ھوئے ھیں۔اِنھی ٹیکس نیٹ سے باھر کالی کمائی کرنے والوں کے ووٹوں اور نوٹوں سے ملکی سیاست کے فیصلے ھوتے آ رھے ھیں اور بظاھر نہ نظر آنے والی طاقتیں بندر بانٹ میں انھی کی دولت لوٹنے میں مسلسل بندر کا کردار ادا کرتی چلی جا رھی ھیں۔
پھر طاقت کا نشہ ایسا ھوتا ھے کہ جب تک نیب کی گرفت میں نہیں آتا ھر پاکستانی ھٹا کٹا دکھائی دیتا ھے اور جونہی احتساب کے عمل کا سامنا کرنا پڑ جاتا ھے تو کمانڈوز بھی کمر کے درد میں متلاء ھو کر بیرون ملک چلے جاتے ھیں اور ان اداروں پر سوالیہ
نشان چھوڑ جاتے ھیں کہ اگر فوجی اعلیٰ ھسپتالوں میں کمر کے درد تک کا علاج ممکن نہیں تو بھلا اگر جنگ ھو گئی تو کٹے پھٹے غازیوں کا علاج کیسے کروایا جائے گا۔
شاید اسی لئے موجودہ حکومت اور عسکری ادارے ایک پیج پر ھیں کہ کچھ ھو جائے جنگ آپشن نہیں ورنہ وردی میں ملبوس جرنیلوں سمیٹ ان کے بہت سے اداروں کا پول کھل کر سامنے آجائیگا کہ کون کون جنگ کے قابل ھے اور کیا کیا جنگ کے قابل نہیں۔
یہاں ھمیں ان بڑے معاملات پر کوئی بحث نہیں کرنی کیونکہ ان بڑے معاملات پر دن رات بہت چھوٹے چھوٹے بد زبان بد کلام شتر بے مہار سر پٹ قلم دوڑاتے نظر آتے ھیں ھم تو صرف یہ جاننا چاھتے ھیں کہ آخر خرید و فروخت میں شناختی کاپی پر اعتراض کیوں ھے۔
کیونکہ ھم ترقی یافتہ ملکوں میں بنکاری کے نظام پر عمل پیراء ھیں اور دودھ کی بوتل سے لیکر گھر خریدنے تک تمام لین دین بنک کارڈز کےذریعے ھوتی ھیں سالانہ اکاونٹس میں بنک اکاونٹ کی تفاصیل مہیا کر دی جاتی ھیں اور اس تناسب سے ٹیکس کی ادائیگی کی جاتی ھے۔
اب یا تو آپ بھی تمام کاروبار بنک کے ذریعے کریں جہاں آپکی ساری تفاصیل موجود ھوں یا پھر شناختی کارڈ کی کاپی رکھیں ک آپ نے کس کو کتنے کا مال دیا ھے یا لیا ھے تاکہ دیکھا جا سکے کہ آپ کے ساتھ ساتھ دوسری پارٹی بھی مکمل ٹیکس دے دھی ھے یا نہیں اور کیا سعد حریری کی طرح ان کو بھی عزت نفس کا خیال ھے یا وہ بھی احتساب کے وقت سو بیماریوں کی تصویر بنے ھائے علاج ھائے علاج چلا رھے ھونگے۔
تحریر علی شان