مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرے کے باعث وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں معمولات زندگی مفلوج ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق علاقے میں دفعہ 144کے تحت سخت پابندیاں نافذ ہیں جبکہ انٹرنیٹ اور پری پیڈ موبائل فون سروس معطل ہے۔
لوگ بھارت کی طرف سے حالات معمول کے مطابق دکھانے کی کوششوں کی مزاحمت کررہے ہیں۔ وادی کشمیر میں عملاً غیر اعلانیہ سول نافرمانی ہورہی ہے جس کا مقصد بھارت کی طرف سے 5اگست کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔
اس تحریک کے تحت دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کررکھی ہیں، طلباء تعلیمی اداروں سے غیر حاضر ہیں، سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین دفاتر نہیں جاتے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔ قابض انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو چرار شریف کی درگاہ پر منعقدہ شبانہ عبادت میں شرکت سے روک دیا ہے۔ بھارتی پولیس نے سالانہ عرس سے ایک دن پہلے ہی علاقے کو سیل کردیاتھا اوریہ واقعہ قابض حکام کی طرف سے وادی کشمیر میں حالات نارمل ہونے کے دعوؤں کے باوجود پیش آیا۔
دوسری طرف کشمیریوں کے تاثرات دکھ اور درد میں لپٹے ہوئے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ’’آج ہماری ریاست کی وحدت اور شناخت کی آخری رات ہے، کل سے نیا قانون ہم پر مسلط کیا جائے گا، ہماری ریاست جموں کشمیر اور لداخ دو حصوں میں بٹ جائے گی۔ دل درد سے پھٹ رہا ہے، کوئی ہماری مدد کو نہ آیا ہم بے یار و مددگار ہی رہے۔‘‘
انڈین آئین کی دفعات 370 اور 35 اے کے باعث کشمیر کو 30 ریاستوں والے انڈین وفاق میں خصوصی درجہ حاصل تھا۔ جموں کشمیر کا علیحدہ سرخ پرچم تھا جو سرکاری عمارتوں اور سرکاری گاڑیوں پر انڈین ترنگے کے ساتھ لگانا آئینی فریضہ تھا۔
حکومت کو مقامی طور پر قانون سازی کا حق تھا، مرکزی قوانین کا اطلاق مقامی قانون سازی کی توثیق کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا اور جموں کشمیر کی حدود سے باہر رہنے والا کوئی بھی انڈین یہاں زمین و جائیداد کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔لیکن اب یہ سب نہیں رہابھارت سرکار کو یقین ہے کہ یکم نومبر سے نیا کشمیر وجود میں آجائے گا ۔
کشمیریوں کی تشویش اپنی جگہ دگنی ہوچکی ہے ان کا کہنا ہے کہ کل کو اگر اسمبلی کے 100 ارکان بھی کوئی قانون بنا لیں یا کوئی ترمیم کر لیں اور لیفٹیننٹ گورنر اس قانون کی توثیق نہ کرے تو قانون میں ترمیم نہیں ہو سکتی۔ قانون سازی کا حق ہم سے چھین لیا گیا ہے۔
کشمیریوں کو بے اختیار اور بے سیاست کر کے جشن نہیں منا یا جاسکتا ۔ کشمیریوں کی انفرادی کہانیاں دکھ اور درد اپنی جگہ لیکن یہ قوم اجتماعی ڈیپریشن کا شکار اور آہستہ آہستہ اپنی شانخت سے محروم ہوتی جا رہی ہے ۔