سندھ بھر میں 18 نومبر تا 30 نومبر تک ٹائیفائیڈ کے خاتمے کی  ویکسین مہم چلائی جائے گی۔

میعادی بخار کے بڑھتے ہو ئے کیسز کے بعد عالمی ادارہ صحت کی جانب سے یہ مہم پہلی بار چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

ڈاکٹر اکرم سلطان پروجیکٹ ڈائریکٹر ٹائیفائیڈ کنٹرول پروگرام کا کہنا ہے کہ ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے لئے تمام طبقات ساتھ دیں ۔ سندھ میں نو ماہ تا 15 سال تک کے بچوں کے لئے مہم چلائی جائے گی۔ اب تک سندھ میں ٹائیفائیڈ سے 10 ہزار بچے متاثر ہوئے ہیں رواں سال اگست کے مہینے میں چار ہزار ٹائیفائیڈ کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس میں سے تین ہزار کیسز صرف کراچی سے داخل ہوئے ۔

ڈاکٹر اکرم سلطان نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت دس لاکھ ویکیسن فراہم کرے گا۔

ٹائیفائیڈ کے مرض میں عام ادویات اثر نہیں کررہی ہیں  اسی لئے ویکسینشن پروگرام شروع کررہے ہیں۔اس ویکسین کے کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ سندھ میں ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ کی نشاندہی کے بعد انسداد ٹائیفائیڈ مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

واضح رہے ٹائیفائیڈ بخار گنجان آبادی والے علاقوں میں زیادہ عام طور پر پایا جاتا ہے جہاں پانی کی فراہمی آلودگی کا شکار ہے۔ پانی کی صاف صفائی کے بہتر طریقے اور مناسب ذخیرہ اور غذا اور پانی کی دیکھ ریکھ ایس ٹائفی کو پھیلنے سے روک سکتی ہے۔

اینٹی بایوٹکس ٹائیفائیڈ بخار کا واحد مؤثر علاج ہے۔ زیادہ تر مریض اینٹی بایوٹک کے علاج کے آغاز کے بعد بہتر محسوس کرتے ہیں۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے