ریلوے حادثات : انسانی جانوں کے ضیاع کا اصل ذمہ دار کون

گزشتہ ایک سال کے دوران ریل کے کم و بیش اسی سے زائد حادثات ہو چکے ہیں ۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی  پاکستان ریلوے حکام کی جانب سے چھوٹے ملازمین  کی نااہلی  یا پھر مسا فروں کی غفلت  کو ذمہ دار ٹھہرا کر معاملا ت کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

پاکستان کے قیام سے قبل 1861ء میں خطے میں سب سے پہلی ریلوے لائن کراچی اور کوٹڑی کے درمیان بچھائی گئی تھی جبکہ سب سے پہلا ریلوے حادثہ بھی اس ٹریک پر ہوا۔ سنہ 1953ء میں پیش آنے والے اس ریل حادثہ کے نتیجے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سنہ 1990ء میں سکھر سے 10 کلومیٹر دور سانگھی کے مقام پر 2 ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں اور نتیجے میں 350 سے زائد افراد کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا ۔ یہ حادثہ پاکستان ریلوے کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹرین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ہردورمیں ریلوے میں انقلابی اقدامات کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن نظام جوں کاتوں ہے نئی ٹرینیں چلانے کی بجائے نظام میں بہتری ناگزیر ہے۔ ان حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع تو ہوتا ہی ہے مگر مالی طورپر بدحال محکمہ مزید نقصان سے دوچار ہو رہا ہے۔ ریلوے کے اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر خسارہ 27 سے 32 ارب روپے پر برقرار ہے جو گزشتہ پچیس سال سے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

ریلوے حادثات پر قابو کیوں نہیں پایا جا سکا اس حوالے سے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریلوے کا نظام بہت وسیع مگر کافی پرانا ہے اور جس نوعیت کی بحالی کی اسے ضرورت تھی وہ  آج تک نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ٹرین حادثات کی تین بڑی وجوہات ہیں جن میں سرِ فہرست ریلوے ٹریک سے متعلقہ مسائل ہیں جبکہ رولنگ سٹاک (ریل کے انجن اور بوگیاں) اور ریلوے سگنل کا نظام بھی حادثات کی وجہ بنتا ہے۔ اس کے  علاوہ ہیومن ریسوس یا افرادی قوت کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

ریلوے حادثات کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو گزشتہ سال دسمبر سے رواں سال اب تک تک ٹرین ڈی ریلمنٹ (پٹڑی سے اترنے) کے 51 بڑے واقعات ہوئے۔ دسمبر 2018ء میں 4 حادثات جبکہ جنوری 2019ء کے مہینے میں 5 واقعات ہوئے- اسی طرح ماہ فروری میں 6 حادثات، مارچ میں 10 ٹرینیں ڈی ریل ہوئیں۔ اپریل میں 6، مئی میں 5 اور جون میں 8 ریل گاڑیاں پٹری سے اتر گئیں۔ جبکہ رواں ماہ جولائی کے صرف 11 دنوں میں 7 حادثات پیش آ چکے ہیں۔ ٹرین کے حادثات پر نظر دوڑائی جائے تو 21 مسافر ٹرینیں اور 30 مال گاڑیاں حادثے کا شکار ہوئیں۔ انجن فیل ہونے، سیلون، پاور وینز اور بوگیوں میں آگ لگنے کے واقعات اعداد و شمار میں شامل نہیں کیے  گئے۔

واضح رہے کہ2017ء – 2018ء کے مقابلہ میں 2019ء میں ریلوے حادثات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ ان میں 8 واقعات تو آگ لگنے کے ہی ہیں جن میں سے 4 ڈائننگ کار کے ہیں۔ جبکہ تازہ سانحہ 74 جانیں لے گیا وہ بھی ریل میں آتشزدگی سے متعلق ہے

اس وقت 136 ٹرینیں چل رہی ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق ان حادثات کی وجوہات کا تعین کرنے اور مستقبل میں حادثات سے بچاؤ کے لیے  اس وقت 75 انکوائریاں چل رہی ہیں جن میں سے 54 مکمل ہوئیں جبکہ 21 جاری ہیں۔ ان انکوائریوں کے نتیجہ میں 13 لوگوں کو سزائیں دی گئیں جبکہ 34 ایف آئی آر  بھی درج کروائی گئی ہیں۔

سچ یہ ہے کہ  1862ء میں آپریشنل ہونے والا محکمہ پاکستان ریلوے اب اپنی عمر پوری کر چکا ہے, جبکہ اسے اس حال تک پہنچانے میں ہمارے حکام کی کوتاہیاں بھی شامل ہیں کیونکہ کبھی اسے اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ انگریز سرکار سے آزادی کے بعد چاہیے  تو یہ تھا کہ اس میں بہتری لائی جاتی مگر افسوس اس کی طرف خاطر خواہ توجہ بھی نہ دی گئی اور نہ ہی جدید تقاضوں کو پیشِ نظر رکھا گیا جن کی وجہ سے ہماری ریلوے بہت سے حادثات سے دو چار ہوئی جو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کی ہلاکت کا باعث بنی۔

عالمی سطح پر ریلوے کو ایک مکمل نظام کے طور پر سمجھا جاتا ہے اور اس پر ریسرچ کی جاتی ہے۔ لیکن پاکستان ریلوے میں ہر بار حادثہ ہونے پر نظام میں تحقیقات کے بعد نشاندہی کر کے خامیاں دور کرنے کی بجائے کسی چھوٹے ملازم کو واقعہ کا ذمہ دار قرار دیکر اگلے حادثے کا انتظار شروع ہو جاتا ہے۔

ریلوے حادثات کے متعلق مسافروں میں غم و غصہ پا یا جاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور حکومت میں بھی ریلوے کی بحالی کے حوالے سے جتنے بھی دعوے کیے گئے وہ سب دعوے ہیں ۔ یہ ریلوے سے زیادہ وطن عزیز کی بدقسمتی ہے کہ اس کے وزیر شیخ رشید خود ریلوے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں رکھتے بلکہ اہم  پوسٹیں بھی ایسے لوگوں کے حوالے کی گئیں  کہ جو نااہل ہیں اور ان کی جواب طلبی کرنے والا بھی کوئی نہیں۔

Share This Article