پاکستان میں حالیہ ٹرین حادثے میں 74 افراد کے جل کر راکھ ہوجانے کا واقعہ پاکستان کا پہلا حادثہ یا واقعہ نہیں ہے ۔ موجود حکومت کے ہر دلعزیز اور وزیراعظم کے چہیتے وزیر ریلوے شیخ رشید کی وزارت کے دوارن صرف ایک سال کے عرصے میں ٹرین کے 70حادثات ہو چکے ہیں ۔ ہلاکتوں کے لحاظ سے حالیہ حادثہ اس دہائی میں پیش آنے والا ریل حادثوں میں سب سے بڑا تھا ۔ لیکن وزیر موصوف جو اس قسم کے حادثات میں بھی کما ل کا حس مزاح پیدا کرلیتے ہیں انہوں نے ہمیشہ ان حادثوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈالی۔ کبھی پھاٹک کی خرابی پر ، کبھی ریلے کے کانٹے پر ، کبھی پھاٹک کے چوکیدار پر اور کبھی ریل کے ڈرائیور پر ۔ اس دفعہ تو انہوں نے یہ ذمہ داری برائے راست مسافروں پرڈال کر اپنی ذمہ داری سے جان چھڑا لی ۔ پاکستان میں ریل متوسط طبقے کی سواری ہے اس لیے اس کا ٹھیک کرنا کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہی

جدید تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ حادثات کے حوالے سے تین اصول بہت اہم ہیں، پہلا یہ ہے کہ ہر حادثہ ایک قتل ہوتا ہے جو کسی نہ کسی کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ ہر حادثہ کا شکار ہونے والا حادثے سے پہلے یہی سوچتا ہے کہ ایسا آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا جبکہ اس کا یہ خیال بعد میں غلط ثابت ہوتا ہے اور تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ حادثے والی جگہ کو فورا ً خالی کرا لیناچاہیے۔ غیر متعلقہ لوگوں کووہاں سے فوراً ہٹا دینا چاہئے کیونکہ کوئی بھی حادثہ غیر تربیت یافتہ لوگوں کو اپنے لپیٹ میں لے سکتا ہے ۔

یورپ میں ہر فیکٹری اور ہر دفتر سے لیکر چھوٹی سی چھوٹی دوکان والے کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ ہیلتھ اور سیفٹی کے قوانین پر عمل کرے اور اس کی تربیت لے۔ ہر سکول میں بچوں کی نرسری جماعت سے لیکر یونیورسٹی تک الارم بجا کر یہ ٹریننگ دی جاتی ہے کہ اگر سکول میں آگ لگ جائے یا کوئی قدرتی آفت آجائے تو بلڈنگ کو فوراً خالی کرنا ہے ، ہر ہوٹل، ہر سپر مارکیٹ ، ہر سرکاری و پرائیویٹ محکمہ کے دفتر کی عمارت کے باہر ایک اسمبلی پوائنٹ ہوتا ہے۔ جب بھی کوئی شخص وہاں جاب شروع کرتا ہے تو کمپنی کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسے سب سے پہلے بتایا جاتا ہے کہ آگ لگنے یا کسی قدرتی آفت کے فوراً بعد ایمرجینسی ایگزٹ کہاں ہے اور اسمبلی پوائنٹ کہاں ہے جہاں سب اکٹھا ہوںگے۔

یورپ کے چھوٹے سے چھوٹے گاﺅں میں بھی ایسے اسمبلی پوائنٹ ہوتے ہیں ۔ یورپ میں کسی بھی بلڈنگ کی بالائی منزلوں کی کسی بھی کھڑکی کے باہر لوہے کی جالیاں نہیں لگائی جا سکتیں ۔ اگر آپ کوئی عبادت گاہ بناتے ہیں یا کوئی بھی ایسی عمارت بناتے ہیں جس میں لوگوں کی زیادہ تعداد جمع ہو سکتی ہے تو ضروری ہے کہ اس میں ایسے گیٹ لگائے جائیں جن پر ایک ہینڈل لگا ہوتا ہے جس کو صرف دبانے سے ہی وہ اندر سے کھل جاتا ہے ایسا گیٹ نہ ہونے کی صورت میں علاقائی انتظامیہ آپ کی اس عمارت کو پاس ہی نہیں کرتی۔

یورپی یونین کے ہیلتھ اور سیفٹی لا ء کے مطابق ہر فیکٹری یا دفتر جس میں 15 سے زیادہ مزدور کام کرتے ہوں وہاں دو ذمہ دار ایسے ہونے چاہیں جو ہیلتھ اور سیفٹی کے ذمہ دار ہوتے ہیں ایک مالک کی جانب سے ہوتا ہے جبکہ دوسرا مزدوروں کی جانب سے باقاعدہ ووٹ لیکر منتخب ہوتا ہے تاکہ اگر کسی جگہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا خیال نہیں رکھا جا رہا تو اس کے خلاف شکایت کی جا سکے یورپ میں آپ اگر ماہر الیکٹریشن نہیں تو آپ ایک بلب تبدیل نہیں کر سکتے، آپ اپنے گھر کا انٹینا تبدیل نہیں کر سکتے، آپ بغیر حفاظتی اقدامات کے گھر کے باہر پینٹ نہیں کر سکتے، حتی ٰ کہ آپ مستری مزدور تک نہیں لگا سکتے۔ اسی طرح بسوں اور ٹرینوں کے اندر باقاعدہ ایمرجینسی ایگزیٹ کا گیٹ ہوتا ہے۔ مسافر بس تو دور عام ٹیکسی میں بھی اگر آگ بجھانے والا سلنڈر اور ابتدائی طبی امداد کی کٹ نہیں تو آپ ٹیکسی لیکر روڈ پر نہیں چڑھ سکتے ۔

ہمارے ملک میں ٹرین کا حادثہ ہو یا کوئی دوسرا سانحہ جس میں عام آدمی مر جائے اشرافیہ کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔ احمد پور شرقیہ میں 164 افراد پٹرول لیتے جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ کراچی بلدیہ ٹاﺅن کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے 289 مزدورہلاک ہوگئے لاہور ایل ڈی اے کی عمارت میں آگ لگنے سے آٹھ لوگ ہلاک ہوگئے تھے ۔اسی طرح گجرات میں ایک ویگن میں آگ لگنے سے 16چھوٹے بچے جل کرہلاک ہوگئے تھے اس طرح ہر روز ٹریفک حادثات میں بیسیوں لوگ مرجاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بحیثیت قوم ہر حادثے کے بعد بقول شاعر یہ جاننے کی کبھی کوشش نہیں کی کہ

وقت کرتا ہے پرورش برسوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

ہمارے لیڈر ہر حادثے کے بعد صرف بیس بیس لاکھ کے اعلانات کرتے ہیں، ہمارے لوگ ہر حادثے کو خدا کی رضا سمجھتے ہیں، ہماری سیاسی پارٹیاں لاشوں پر پوائنٹ سکورنگ کرتی ہیں، ہمارے سکولوں کے نصاب میں ہیلتھ اینڈ سیفٹی کا کوئی مضمون شامل نہیں ہوتا، ہمارے قلم کارکی تحریروں میں اس موضوع پر طبع آزمائی نہیں کی جاتی ہے ، ہمارے ٹی وی پروگراموں میں شاید ہی کوئی پروگرام عوام کی حفاظت پر ہو ہماری این جی اوز اس موضوع پر شاید ہی کوئی سیمینار یا ورکشاپ کرتے ہیں۔ ٹرین کے مسافرایک مذہبی اجتماع پر جا رہے تھے جہاں انہیں مذہب کی تعلیم تو دی جاتی لیکن شاید زندگی بچانے کی کوئی تربیت موضوع نہ ہوتی۔

حادثات قدرت کی جانب سے ویک اپ کال ہوتے ہیں۔ قومیں حادثوں سے سیکھتی ہیں، لیکن شاید ہم نے اپنے حکمرانوں سے یہ سیکھ لیا ہے کہ ہم نے کچھ نہیں سیکھنا!

تحریر محمود اصغرچوہدری

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے