کیا آپ اکثر صبح ناشتہ کئے بغیر گھر سے نکل جاتے ہیں ؟ کیا آپ صبح کا ناشتہ کرنے سے بھاگتے ہیں ؟ کیا آپ دل ناشتہ کرنے کا نہیں چاہتا ؟ اگر ان سوالا ت کے جواب ہاں میں ہیں تو یہ صحت کےلئے تباہ کن عادتیں ہیں جو متعدد طبی مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ویسے تو کہا جاتا ہے کہ ناشتہ دن کی سب سے اہم خوراک ہے اور اسے کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہیئے۔تاہم یہ جان لینا بہتر ہے کہ اگر آپ اکثر ناشتہ نہیں کرتے تو جسم پر یہ عادت کیا اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

میٹابولزم کا متاثر ہونا

ناشتہ نہ کرنے کی عادت اور میٹابولزم کی رفتار میں کمی کے درمیان تعلق موجود ہے، جب بھی کسی وقت کا کھانا چھوڑا جاتا ہے تو اس کا اثر جسمانی افعال پر مرتب ہوتا ہے، جسم کا میٹابولک ریٹ گرجاتا ہے تاکہ کیلوریز کی کمی کا ازالہ ہوسکے۔ اگر آپ طویل دورانیے تک نہیں کھاتے تو اس سے جسم کی کیلوریز جلانے کی صلاحیت منفی انداز سے متاثر ہوتی ہے۔

جسمانی وزن میں اضافہ کا باعث

اگر آپ بڑھتے وزن سے پریشان اور اس وجہ سے صبح کی پہلی غذا چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تاکہ موٹاپے سے بچ سکیں، تو یہ ایک غلطی فہمی سے زیادہ نہیں۔ ایسی متعدد طبی تحقیقی رپورٹس سامنے آچکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ناشتہ کرنے کی عادت صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ جو لوگ ناشتہ نہیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ دیگر اوقات میں لاشعوری طور پر حد سے زیادہ کھالیتے ہیں۔

ذیابیطس کا خطرہ

ناشتہ نہ کرنا ذیابیطس جیسے مرض کا شکار ہونے کا خطرہ پیداکردیتاہے خاص طور پر خواتین کے لیے یہ زیادہ تباہ کن ہے، مختلف رپورٹس کے مطابق جو خواتین ناشتہ نہیں کرتیں ان میں ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔

چڑچڑا پن

ناشتہ نہ کرنے یا طویل وقت تک بھوکے رہنے سے مزاج بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ ناشتہ کرنے کے عادی ہوتے ہیں، ان کا مزاج دن کی پہلی غذا سے دوری اختیار کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہوتا ہے۔ ناشتہ نہ کرنے سے بلڈشوگر لیول بھی گرتا ہے جو کہ چڑچڑے پن کا باعث بنتا ہے۔

امراض قلب کا خدشہ

جو لوگ روزانہ ناشتہ کرتے ہیں ان میں امراض قلب کا باعث بننے والے عناصر کا خطرہ کم ہوجاتا ہے، ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ناشتہ چھوڑنا فشار خون یا بلڈ پریشر میں اضافے، بلڈ شوگر بڑھانے اور انسولین کی مزاحمت کا باعث بنتا ہے۔

 

دماغی افعال متاثر ہوسکتے ہیں

دماغ گلوکوز پر کام کرتا ہے ، تو رات بھر کے فاقے کے بعد کاربوہائیڈریٹس کا استعمال ضروری ہوتا ہے جو کہ جسم میں جاکر گلوکوز میں تبدیل ہوتا ہے اور دماغ کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔ اگر ناشتہ چھوڑ دیا جائے تو دماغی افعال متاثر ہونے کا امکان ہوتا ہے۔

منہ سے بو آنا

ناشتہ نہ کرنا صرف صحت کے لیے ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ سماجی زندگی پر بھی اثرانداز ہوتا ہے کیونکہ اس عادت کے نتیجے میں سانس میں بو جیسے مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناشتہ نہ کرنے سے لعاب دہن بننے کا عمل متحرک نہیں ہوپاتا، جس سے زبان پر بیکٹریا کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جو اس مسئلے کا باعث بنتا ہے۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے