اقوام متحدہ نے 18دسمبر2013کو قرار داد نمبر68/163 منظور کرتے ہوئے ہربرس نومبر کی 02تاریخ کو صحافی و میڈیا کارکنان کے خلاف تشدد و حملوں کے خاتمے کی آگاہی کا دن منانے کاا علان کیا۔

ممبر ممالک سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف ہونے والے تشدد کو روکنے کے لئے، احتساب کو یقینی بنانے، صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لئے پوری کوشش کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ متاثرین کو مناسب علاج تک رسائی حاصل ہو۔

یہ دن مالی میں دو فرانسیسی صحافیوں کے بہیمانہ قتل کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

کیدال کے نواحی علاقے توریغ باغیوں کے علیحدگی پسند گروپ اور مالی نیشنل آرمی نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو آگاہ کیا تھا کہ فرانس کے سرکاری ریڈیو سے تعلق رکھنے والے دو صحافی گیسلین ڈوپونٹ اور کلاڈ ورلوندو کو اغوا کر کے ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کیدال شہر میں دونوں کو اُس وقت اغوا کیا گیا جب وہ توریغ باغیوں کے علیحدگی پسند گروپ کے مقامی لیڈر سے انٹرویو کر کے باہر نکلے تھے۔ ان کو کیدال شہر سے بارہ کلومیٹر کی دوری پر لے جا کر مارا گیا تھا۔ توریغ باغیوں کے گروپ کو دونوں صحافیوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں شہر کے مضافات سے ملی تھی

صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔ جہاں سچ پر مبنی خبر دینے پر صحافیوں کو اپنے فرایض کی ادائیگی سے روکے جانے کے مثالیں دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف بارہ سالوں میں ایک ہزار سے زیادہ صحافی خبر کی رپورٹنگ اور لوگوں تک معلومات پہنچانے کی وجہ سے قتل جا چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دس میں سے نو میں قاتلوں کو سزا نہیں دی جاتی ہے۔استثنیٰ مزید ہلاکتوں کا باعث بنتا ہے اور یہ بڑھتے ہوئے تنازعات اور قانون اور عدالتی نظام کے خراب ہونے کی علامت ہے۔

یونیسکو کو اس امر پر تشویش ہے کہ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، بدعنوانی اور جرائم کا احاطہ کرکے استثنیٰ پورے معاشروں کو نقصان پہنچا ہے۔المیہ یہ ہے کہ عامل صحافیو ں اور میڈیا کارکنان کو انتہا پسند تنظیموں کے ساتھ ساتھ ریاستوں کی جانب سے بھی سخت پابندیوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ ایسے کئی ممالک ہیں جہاں عسکریت پسندوں کی منشا کے مطابق خبر نہ لگانے پر میڈیا کارکنان کو جبر و تشدد کا سامنا ہوتا ہے تو دوسری جانب عسکریت پسندوں کی خبریں جاری کرنے پر ریاست کے مختلف اداروں کی جانب سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہاں تشویش ناک صورتحال یہ بھی ہے کہ کئی ممالک میں ریاست عسکریت پسندوں کے خلاف خبریں جاری کرواتی ہیں تو عسکریت پسندوں کی جانب سے میڈیا کارکنان کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ صحافیوں و میڈیاکارکنان کی زندگیوں کو اُس وقت سب سے زیادہ خطرات لاحق ہوجاتے ہیں جب د ہشت گردوں کی جانب سے انتہا پسندی کے اوپر تلے واقعات ہوتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان میں میڈیا کارکنان کی بڑی تعداد میں مارے جانے کی بڑی وجوہ میں ایک وجہ یہ بھی رہی ہے کہ میڈیا کارکن جب واقعے کی کوریج کررہے ہوتے ہیں تو اس دوران تھوڑے وقفے کے بعد دوسرا حملہ ہوجاتا ہے۔ اس وقت افغانستان میں میڈیا کارکنان کو اسی سنگین صورتحال کا سامنا ہے۔

پاکستان کا شمار بھی صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی فہرست 2018 کے مطابق پاکستان کو 142 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ پاکستان میں 2018 کو 3 صحافی قتل ہوئے۔اس کے علاوہ پاکستان میں صحافیوں کو حکومتی اداروں اور مختلف گروہوں کی جانب سے بھی جبر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کے لیے اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی آسان نہیں ہے۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن نے ذرائع ابلاغ کے خلاف پرتشدد کاروائیوں کی خطرناک حد تک بڑھتی سطح پر قابو اور اس سے وابستہ افراد و اداروں پر حملے کرنے والوں کو کھلی چھوٹ کے خاتمے کے اہم اقدامات کی تجویز دی ہیں۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف صرف فوجی مقدمات درج ہی نہیں بلکہ تحقیقات و مقدمے کی پیروی و فوری فیصلوں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

فرانس سے تعلق رکھنے والے صحافی گیسلین ڈوپونٹ اور کلاڈ ورلوندو کو اغوا کے بعد قتل کا واقعہ ہونا دراصل ان ہی کوتاہیوں و بے احتیاطی کے سبب رونما ہوا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دو نومبر کا دن اسی مناسبت سے منانے کا مقصد صحافی، میڈیا کارکنان، میڈیا مالکان اور ریاست کو آگاہی فراہم کرنا ہے تاکہ صحافیوں کے خلاف پرتشدد واقعات میں کمی و خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے