مقبوضہ کشمیر: وادی میں طویل لاک ڈاﺅن کو سپورٹ نہیں کریں گے ، جرمن چانسلر انگیلا مرکل

مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو 3 ماہ کا عرصہ بیت گیا ہے۔ بھارتی قابض انتظامیہ نے 5 اگست سے  مسلسل 13 ویں جمعے کو بھی بڑی مساجد میں نمازِ جمعہ ادا نہیں کرنے دی۔

مقبوضہ کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سمیت بڈگام، گاندر بل، اننت ناگ، پلوامہ، کلگام، شوپیاں اور بارہ مولا میں متعدد کشمیری کرفیو توڑتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے، جنہوں نے بھارت کے خلاف اور آزادی کےحق میں نعرے لگائے جن پر بھارتی فوج نے آنسو گیس شیلنگ اور پیلٹس گنوں کی فائرنگ کر دی، جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ وادی میں 90 روز سے جاری بھارتی کرفیو اور لاک ڈاﺅن کے باعث تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز بند ہیں، سڑکوں سے ٹریفک غائب ہے، موبائل فون، انٹرنیٹ سروس معطل ہے، خوراک اور دواﺅں کی قلت ہے۔

دوسر ی جانب دورہ بھارت پر موجود جرمن چانسلر انگیلا مرکل نےمقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وادی کی موجودہ صورتِ حال غیر مستحکم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی خطے میں لاک ڈاﺅن اتنے لمبے عرصے تک جاری نہیں رکھا جا سکتا، مقبوضہ کشمیر کی صورتِ حال کو ہر صورت تبدیل ہونا چاہیے، مقبوضہ وادی میں طویل لاک ڈاﺅن کو کسی صورت سپورٹ نہیں کیا جاسکتا۔

Share This Article

تازه ترین