مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیراعظم کے استعفے کی مہلت کا آخری روز، شہر اقتدار میں سیکیورٹی الرٹ کردی گئی۔

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی-ف)  کا آزادی مارچ کے شرکا چوتھے روز بھی ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ وہ چالیس دن کی تیاری کر کے آئے ہیں اس سے قبل  مولانا فضل الرحمان نے مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہا تھا کہ ڈی چوک جانے سمیت کئی تجاویز زیرغور ہیں۔ جب کہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے وزیراعظم کو استعفے کے لیے دو روز کی مہلت دی گئی تھی جس کا آج آخری دن ہے۔

ذرائع کے مطابق سربراہ جے یو آئی کے اعلان کے بعد زیروپوائنٹ اور ریڈ زون جانے والے راستوں پر سیکیورٹی الرٹ کردی گئی ہے، پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام نفری کو آنسوگیس کے شیل اور دیگر سامان فراہم کردیا گیا جبکہ دوسرے صوبوں سے مزید پولیس کی نفری بھی اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہجوم کو کسی صورت جلسہ گاہ سے آگے نہیں جانے دیا جائے گا۔شہرميں حفاظتی پہرے مزيد سخت کردئیے گئے ہیں۔داخلی وخارجی راستوں پر نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔آئی جی اسلام آباد کی سربراہی ميں سیکيورٹی اداروں کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کيلئے حکمت عملی تیارکی گئی۔

اسلام آباد کے شہریوں کو فون کی بندش اور انٹرنیٹ سروس کے تعطل کا بھی سامنا ہے ۔

دوسری جانب اسلام آباد کے اہم مقامات کی طرف جانے والی سڑکیں کنٹینر لگا کر بند کردی گئ  ہیں۔

سرینا چوک سے ریڈ زون کا داخلہ منقطع ہے جبکہ سیکریٹریٹ کاعلاقہ بھی سیل کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میریٹ ہوٹل سے پارلیمنٹ ہاؤس اور ایوان صدر جانے والے راستے بھی بند ہیں۔

فیض آباد پر مری روڈ کی 4 میں سے صرف ایک لین ٹریفک کے لیے کھلی ہے جس کے  باعث شہری پریشانی کا شکار ہیں۔

اُدھر اسلام آباد پولیس اور رینجرز نے امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے ایس پی سٹی زون کی قیادت میں فلیگ مارچ کیا۔

ترجمان کے مطابق اسلام آباد پولیس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہے اور مختلف مقامات پرپولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے