مولانا فضل الرحمان پر بغاوت کا الزام ، لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گرفتاری کے لیے ہائی کورٹ میں درخواست دائر ہوگئی ہے۔

لاہور:ایڈوکیٹ ندیم سرور نے جے یو آئی سربراہ کی  گرفتاری اور ان کے خلاف بغاوت کی کارروائی کرنے کی درخواست دائر کی ہے جس میں مولانا فضل الرحمان اور وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا ہے کہ مولانا فضل الرحمان اپنی تقاریر سے لوگوں کو اکسا رہے ہیں جس سے ملک میں انتشار پھیلنے کا خدشہ ہے۔

درخواست میں کہا گیا کہ مولانا فضل الرحمان نے بیان دیا کہ آزادی مارچ کے شرکا وزیر اعظم ہاؤس جا کر عمران خان کو گرفتار کر سکتے ہیں، لوگوں کو ریاست کے خلاف اکسانا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت فضل الرحمان کو گرفتار کر کے بغاوت کی کارروائی کا حکم دے۔

اس سے قبل عبداللہ ملک نامی شہری نے سی سی پی او کے حضور درخواست جمع کراتےہوئے کہا کہ وہ ایک ذمہ دارشہری کی حیثیت سے یہ محسوس کررہےہیں کہ جس طرح مولانا فضل الرحمن اسلام آباد میں ریاست اور اداروں کے خلاف لوگوں کو اکسارہے ہیں یہ ایک واضح بغاوت ہے جس سے ریاست کے اندر مزید انتشار کاخدشہ ہے اور اداروں کی ساخت کو چیلنج کررکھا ہے.

شہری عبداللہ ملک نے اپنی درخواست میں کہا ہےکہ مولانا فضل الرحمن نے  لوگوں کو اکساتے ہوئےکہا کہ وزیراعظم کو بتادیں کہ وہ دودن کےاندر مستعفی ہوجائیں ورنہ یہ ہجوم وزیراعظم کے گھر جاکرانکو زبردستی گرفتار کرکے خود ہی استعفیٰ لے لے گا ، شہری نے مزید کہا کہ اس سے بڑھ کر اور بغاوت کیا ہوسکتی ہے کہ ملک کے وزیراعظم کو اور دیگر اداروں کو دھمکیاں دی جارہی ہیں لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہوسکے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے گرفتار کرلیا جائے تاکہ ملک انتشار سے بچ جائے

Share This Article

تازه ترین