لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ایک کروڑ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی ميں لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بينچ نے 31 اکتوبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا۔
عدالت کی جانب سے ن لیگ کی نائب صدر مریم نواز کو مشروط ضمانت دی گئی۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اس کیس میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے اور جب مزید تفتیش کی ضرورت ہوتی ہے تو ضمانت درخواست گزار کا حق بن جاتی ہے۔
لیگی رہنما طارق فضل چوہدری نے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاہور سروسز اسپتال میں زیرِ علاج نواز شریف کو اپنی بیٹی کی تیمارداری کی ضرورت تھی اور دعا ہے کہ وہ جلد صحتیاب ہوں۔
فیصلے کے بعد عدالت کے باہر موجود لیگی کارکنان نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔
نيب کے وکيل جہانزيب بھروانہ نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار ديتے ہوئے اپنے دلائل ميں موقف اختيار کيا تھا کہ مریم نواز کی ضمانت کے ليے جو وجوہات ہونی چاہیں، وہ اس کیس میں نہیں۔ مریم نواز کے اثاثے ان کی آمدن سے زیادہ ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل مریم نواز کے والد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی طبی بنیادوں پر عدالت سے ضمانت دی جا چکی ہے۔