ایران سے آنیوالے زائرین تفتان بارڈر پر تین دن سے محصور ہیں۔ زائرین کی بسوں کو روک دیا گیا ہے۔

بھوک اور پیاس کے عالم میں کھلے آسمان تلے زائرین سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ زائرین نے اعلی حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایران سے آنیوالے زائرین تفتان بارڈر پر تین دن سے محصور ہیں۔ بھوک اور پیاس کے عالم میں زائرین کی دادرسی کے لئے کوئی متعلقہ افسر نہیں پہنچا ہے۔ زائرین کی بسوں کو سیکیورٹی کا جواز بنا کر روکا ہوا ہے جبکہ بسوں کی سیکیورٹی کے لئے اہلکار بھی نہیں دیے جارہے ہیں۔

زائرین میں بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ واقعہ کے خلاف زائرین نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس خوراک کا بھی کوئی بندوبست نہیں اور زائرین کھلے آسمان تلے دن رات گزار رہے ہیں۔

زائرین کا کہنا ہے ان کی بسوں کو انتظامیہ نے پاکستان ہاؤس میں بند کیا ہوا ہے۔ نہ تو پانی کا انتظام ہے نہ ہی رہنمائی کے لئے کوئی کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بسوں کو فوری طور پر حوالے کیا جائے۔ زائرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ ہونے کی صورت میں اس کی ذمہ داری حکومت وقت اور تفتان انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے