ایامِ عزا کا آخری دن ۔۔۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام گیارہویں امام اور تیرہویں معصوم ہیں اور آپ (ع) کی امامت کا آغاز 254 ہجری میں ہوا۔ اس طرح مدت امامت 6 سال تھی۔ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام  کے  القابات میں عسکری، ذکی، ہادی، سراج اور ابن الرضا مشہور ہیں تاہم ان میں مشہور ترین لقب "عسکری” ہے۔

عباسی خلفاء  نے حضرت امام علی نقی اور حضرت امام حسن عسکری علیہم السلام کو عراق میں ایک فوجی لشکر کے زیر نگرانی زندان میں رکھا تھا، چونکہ لشکر کو عربی میں عسکر کہتے ہیں اسی لیے عسکری کہلائے۔

آپ  کی کنیت ابو محمد اور والد بزرگوار حضرت امام علی النقی الهادی علیہ السلام جبکہ والدہ ماجدہ حضرت حدیثہ خاتون سلام اللہ علیھا ہیں۔ امام عسکری علیہ السلام کی ولادت با سعادت مدینہ منورہ میں 8 ربیع الثانی 232 ہجری قمری کو ہوئی جبکہ ایک روایت کے مطابق 10 ربیع الثانی کو دنیا میں تشریف لائے۔

آپ (ع) کا نسب شریف کچھ یوں ہے کہ حسن ابن علی ابن محمد ابن علی ابن موسی ابن جعفر ابن محمد ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب سلام اللہ علیہم اجمعین۔

شادی کے وقت سنِ مبارک تقریباً 21 سال تھا اور آپ (ع) کی اہلیہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت نرجس خاتون سلام اللہ علیھا ہے جبکہ اولاد میں امام کے ایک ہی بیٹا (امام عصر و الزمان حضرت مہديِ موعود علیہ السلام) ہیں۔ اپنے والد بزرگوار امام علی نقی علیہ السلام کی پردرد شہادت کے بعد منصب امامت سنبھالتے وقت آپ (ع) کا سن مبارک تقریباً 22 سال تھا۔

امام (ع) کے مشہور اصحاب اور شاگردوں میں بشیر انصاری، عثمان ابن سعید اور احمد ابن اسحاق قمی کے نام نمایاں ہیں۔ مولا (ع) کے بےشمار معجزات میں سے ایک خاص معجزہ شدید قحط کے عالم میں حضرت (ع) کی نماز استسقاء و دُعا کے اثر سے بارانِ رحمت کا نزول ہے۔

آپ علیہ السلام نے چھ عباسی ظالم خلفاء کے ادوار گزارے. "متوکل، منتصر، مستعین، معتز، مھتدی، معتمد عباسی”  جبکہ حضرت (ع) کے زمانہ امامت میں حاکم وقت عباسی خلیفہ واثق باللہ تھا۔

آپ (ع) کے قاتل کا نام معتمد عباسی ہے جس نے زہر دے کر مولا (ع) کو شہید کر دیا۔ آپ (ع) کی تاریخ شہادت 8 ربیع الاول 260 ھجری جبکہ مقام شہادت عراق کا شہر سامرہ ہے۔

مسموم و مظلوم مولا (ع) کے پانچ سالہ فرزند حجتِ خدا، بقیۃ اللہ حضرت صاحب الزمان علیہ السلام نے نماز جنازہ پڑھائی. آپ (ع) کا مطہر پیکر اپنے گھر میں اپنے والد بزرگوار کے مرقد منور کے نزدیک زمین کی زینت بنا. جہاں آج بھی لاکھوں کروڑوں زائرین اور عزاداران حاضری دیتے ہیں۔ آ ٹھ ربیع الاول کو عراق کے مختلف شہروں سے سامرا آنے والے زائرین انفرادی طور پر اور ماتمی دستوں کی شکل میں نوحہ خوانی اور سینہ زنی کرتے ہیں پاکستان  سمیت اسلامی جمہوریہ ایران کے مذہبی شہروں مشہد مقدس، قم المقدسہ، شہر رے اور شیراز میں اہلبیت اطہار علیھم السلام کی برگزیدہ ہستیوں کے روضوں میں عزاداری کے بڑے بڑے اجتماعات منقعد کئے جا تے ہیں  جن میں ہزاروں کی تعداد میں عزادار شریک ہوتے ہیں

Share This Article

تازه ترین