۹ ربیع الاول سنہ ۲۶۰ ہجری کو منجی عالم بشریت، آخری حجت خدا،منتقم کربلا حضرت امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کا آغاز ہوا۔اس مناسبت پر مبارکباد قبول کرنے کے ساتھ ساتھ آنحضرت کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

۱۔ حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کا درخشاں چہرہ

حضرت پیغمبراکرم نے فرمایا:
اَلْمَهدِیُّ مِنْ وُلْدی وَجْهه کَالْقَمَرِ الدُّرّیَّ     (بحارالانوار،ج٥١،ص٨٥اکشف الغمة(
ترجمہ:’’مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ) میری اولاد سے ہیں ان کا چہرہ چودہویں کے چاند کے مانند (دمکتا) ہوگا‘‘۔

٢۔ شہر قم اور ناصران حضرت امام مہدی (علیہ السلام(

حضرت امام جعفر صادق نے (علیہ السلام) فرمایا
اِنَّمٰاسُمَّیَ قُمْ لِاَنَّ اَهها یَجْتَجِعُونَ مَعَ قٰائِمِ آلِ مُحَمَّدٍ۰وَیَقُومُونَ مَعَه وَیَسْتَقیمُونَ عَلَیْه وَ یَنْصُرُونَه۔     (سفینة البحار،ج٢،ص٣٣٦(
’’
شہر قم (لفظی ترجمہ کھڑاہوجا،قیام کر)  کا نام قم اس لئے رکھا گیا کہ قم میں رہنے والے قائم آل محمد (علیہم السلام وعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف )کے گرد اکھٹے ہوں گے اور ان کے ہمراہ قیام کریں گے اور اس راستہ میں استقامت دکھائیں گے اور ان کی مدد کریں گے‘‘۔

٣۔ ناصران حضرت امام مہدی (علیہ السلام) اور خواتین

مفضل نے حضرت امام جعفرصادق (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا:
یَکُونُ الْقٰائِمِ ٴ ثَلٰاثَ عَشْرَ ة اِمْرَاَ ة۔     (اثبات الهداة باترجمة،شیخ حرعاملی،ج٧،ص١٥٠(
’’
حضرت قائم (علیہ السلام) کے ہمراہ (آپ کے ظہورکے وقت) تیرہ خواتین ہوں گی‘‘۔
مفضل: مولاسے سوال کرتے ہیں آپٴ ان خواتین سے کیاکام لیں گے؟
یُدٰاوینَ الْجرْحیٰ وَیُقِمْنَ عَلَی الْمَرْضیٰ کَمٰاکٰانَ مَعَ رَسُولِ الله ِ
امام ٴ: یہ خواتین زخمیوں کاعلاج کریں گی اور بیماروں کی تیمارداری ان کے ذمہ ہوگی جیسا کہ پیغمبر اکرم کے ہمراہ ایسی خواتین (جنگوں میں) موجودہوتی ہیں۔

٤۔ خوش قسمت لوگ

پیغمبراکرم نے فرمایا:
طُوبیٰ لِمَنْ اَدْرَکَ قٰائِمَ اَهلِ بَیْتی وَهوَ مُقْتَدٍ بِه قَبْلَ قیامِه، یَتَوَلّیٰ وَلِیَّه وَیَتَبَرَّ مِنْ عَدُوَّه وَیَتَوَلیَّ الْاَئِمَّة الْهادِیَة مِنْ قَبْلِه، اُولٰئِکَ رُفَقٰائی وَذَوُو وُدّی وَمَوَدَّتی وَاَکْرَمُ اُمَّتی عَلَیَّ۔     (بحارالانور،ج٥٢،ص١٢٩غیبت طوسی(
’’
خوش قسمت ہیں وہ لوگ جومیرے اہل بیت سے قائم (علیہ السلام) کے زمانہ کو پائیں گے اور ان کے قیام سے پہلے وہ لوگ ان کی اقتداء اور پیروی کرتے ہوں گے اور ان کے دوست سے محبت رکھتے ہوں گے ،ان کے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوں گے، اور ان سے قبل جتنے آئمہ ہدیٰ (علیہ السلام) گزر چکے ہیں ان سب سے ولایت رکھتے ہوں گے وہی لوگ تو میرے رفقاء ہیں ان ہی سے میری مودت ہے اور میری محبت بھی ان ہی کے واسطے ہے اور میری امت سے وہی لوگ میرے پاس مکرم و با عزت ہیں ‘‘۔

٥۔ غیبت امام زمانہ (علیہ السلام) اور ہلاکت سے بچنے کانسخہ

حضرت امام حسن عسکری(علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ
وَالله ِلَیَغیبَنَّ غَیْبَه لٰایَنْجُو فیها مِنَ الْهلَکَة اِلاّٰ مَنْ ثَبَّتَ الله ُعَزَّ وَ جَلَّ عَلَی الْقَوْلِ بِاِمٰامَتِه ِ وَ وَفَّقَه (فیها) لِلدُّعٰاءِ بِتَعْجیلِ فَرَجِه     (کمال الدین ج٢،ص٣٨٤(
’’
خدا کی قسم وہ (بارہویں امام) ہر صورت میں غیبت اختیار کریں گے اور ان کی غیبت کے زمانہ میں ہلاکت اور تباہی سے کوئی بھی نہیں بچ سکے گا سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ ان کی امامت و رہبری پر ثابت قدم رکھے گا اور خداوند عالم اسے یہ توفیق دے کہ وہ ان کے ظہور (کشادگی، فتح  و کامرانی ،عدل و انصاف پر مبنی انکی الٰہی و قرآنی حکومت) میں جلدی کے لئے دعاء کرنے والے ہوں‘‘۔

 

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے