اسموگ کا کیا کیا جائے ، لاہوری سخت پریشان ، اسکول بند

 اسموگ کی وجہ سے لاہور میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ شہریوں نے  اسموگ کو بھارت کی نئی دہشت گردی قرار دے دیا ۔ کیونکہ وہ بھارت کی جانب سے آنے والے دھوئیں  کے باعث سخت اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق بھارت کی جانب سے اچانک آنے والے دھوئیں کی وجہ سے لاہور کی فضا کا کوالٹی انڈیکس عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے معیار سے کئی گنا تجاوز کرگیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایئر کوالٹی کا نارمل معیار 0 سے 35 کے درمیان ہے جب کہ لاہور کے ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح اس وقت تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس اس وقت ساڑھے چار سو تک پہنچ گیا ہے جب کہ شہر کے کئی علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس ناقابل یقین آٹھ سو کے قریب بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صوبائی حکومت اور شہری انتظامیہ نے اچانک پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جہاں ہنگامی بنیادوں پراقدامات اٹھانے شروع کیے ہیں وہیں شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے میں احتیاط برتیں۔

محکمہ تحفظ ماحول کی ہدایت پر اینٹی ڈینگی ٹیمیں بھرپور طریقے سے متحرک ہوگئی ہیں۔ ترجمان محکمہ تحفظ ماحول نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آلودگی سے خود کو محفوط رکھنے کے لیے ماسک کا استعمال کریں۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تمام ضروری احتیاطی تدابیربھی اپنائیں۔

اسموگ سے اس وقت مال روڈ، گلبرگ، ڈیفنس اور مسلم ٹاؤن سب سے زیادہ متاثر بتائے جارہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے علاقے میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح 867 تک پہنچ گئی ہے۔

جبکہ  اپر مال لاہور کے علاقے میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح 748 تک ریکارڈ کی گئی ہے جب کہ ڈیفنس فیز 5 بلاک ایف میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح 485 تک آگئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گلبرگ میں سید مراتب علی روڈ کے اطراف ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح 467 تک پہنچ گئی ہے جب کہ لبرٹی چوک اور ملحقہ علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی شرح 413 تک ریکارڈ کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسموگ کی وجہ سے شہریوں کو سانس لینے میں سخت دقت کا سامنا ہے جب کہ آنکھوں کی سوزش اور جلن کی شکایات بھی شہری کررہے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد کھانسی کا بھی شکار ہورہی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے لاہور اور اس کے اطراف میں اسموگ پھیلنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ ماحولیات، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہمہ وقت چوکنے رہیں۔

Share This Article

تازه ترین