تحریر : رفعت وانی

انڈیا اور پاکستان کو الگ ہوئے تہتر سال گزر گئے۔ تہتر سال میں دونوں ملکوں پر مختلف حکمران آئے اور گئے اور مسلئہ کشمیر دونوں اطراف کی حکومتوں کے مطابق اُن کی پہلی ترجیح رہی مگر آج تک مسلئہ کشمیر حل تو دور اس پر دونوں طرف سے بات چیت تک کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا۔

اگر شروع ہوا بھی تو بنا کسی انجام تک پہنچے ہی ختم ہو گیا۔ اسکی سب سے بڑی وجہ ہندوستان ہی ہے کیونکہ وہ مسلئہ کشمیر کو اپنے ملک کا ذاتی مسلئہ سمجھتا ہے اور انڈیا کی تمام حکومتوں کا ہمیشہ سے ایک ہی موقف رہا ہے کہ پاکستان سے بات چیت صرف پاکستانی زیرِ اتنتظام کشمیر پر ہی ہو سکتی ہے۔

میرا تعلق چونکہ بھارتی مقبوضہ کشمیر سے ہے تو میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے حالات و واقعات پر میری نظر زیادہ رہتی ہے۔ میں زیادہ دور کی نہیں صرف پچھلے چار سال کی بات کروں گی کہ ایک دم سے کشمیر کے حالات اس لیول تک کیسے پہنچے۔

سب سے پہلے میں انڈین میڈیا پر بات کرنا چاہوں گی جہنوں نے انڈین گورنمنٹ کو کشمیر مخالف پراپگنڈہ میں بہت سپورٹ کیا اور ہندوستان کی عوام میں کشمیریوں کے خلاف زہر بھرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

بھارتی چینلز پر ٹاک شوز میں کم سے کم آٹھ انڈینز کو بٹھایا جاتا اور کشمیر سے کسی ایک مہمان کو مدعو کیا جاتا اور ان سے جیسے ہی کوئی سوال کیا جاتا تو باقی آٹھ مہمان چینل پر بیھٹے بیٹھے کشمیری مہمان پر ایک ساتھ برس پڑتے ہیں اور فورا سے کشمیری مہمان پر دیش دروہی ، پاکستانی ایجنٹ وغیرہ وغیرہ کا ٹیگ لگایا جاتا ہے۔

ابھی کچھ دن پہلے ہی انڈیا کے مشہور جرنلسٹ مسٹر ارنب گوسوامی کا شو دیکھنے کا اتفاق ہوا جہاں اُنھوں نے ایک گھنٹے کے شو میں اٹھارہ مہمان مدعو کر رکھے تھے جن میں سے ایک کشمیری مہمان تھا۔

اب آگے آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ مچھلی منڈی کا سا سماں رہا ہو گا اُس ایک گھنٹہ اس چینل پر۔ میرا آرٹیکل انڈین میڈیا کے بارے میں نہیں مگر میں انڈین میڈیا کا زکر یہاں اس لیئے کر رہی ہوں تاکہ لوگوں کو انڈین میڈیا پروپگنڈہ سمجھنے میں آسانی ہو اور وہ سمجھ سکیں کہ کیسے کشمیریوں کی آواز کو ہر فورم پر انڈیا گورنمنٹ اپنے میڈیا کے دم سے کیسے دبائے میں کامیاب رہی ہے اور ہو رہی ہے۔

پچھلے کچھ دن سے انڈین میڈیا پر شور برپا ہے کہ یوروپین پارلیمنٹیرینز کو مودی گورنمنٹ کی طرف سے کشمیر کا دورہ کروایا جائے گا۔ انڈین میڈیا کا چار سالا ریکارڈ اُٹھا کہ دیکھا جائے تو غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا بازار گرم نظر آتا ہے مگر سوال اُٹھانے والے چینلز یا جرنلسٹس کو یا تو مار دیا جاتا ہے یا غائب جر دیا جاتا ہے، یا جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جاتا ہے یا اُن پر دیش دروہی کا الزام لگا کر شدت پسندودوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے.

تاکہ اُن کی زبانیں حد سے تجاوز نہ کریں اور اُنکا فوکس اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی زیادہ بنے۔ سو ایک اور کہانی آج گرم ہے انڈین میڈیا اپنا مودی چورن اچھے سے بیچ رہا ہے۔

تئیس یوروپین پارلیمنٹیرینز کا وزٹ کشمیر پر سے دُنیا کا فوکس ہٹانے کے لیئے کیا جا رہا ہے یعنی دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکے جارہی ہے کہ کشمیر میں سب کشل منگل ہے یعنی سب ٹھیک ہے۔ اب پہلے تو میں قارئین کو یہ بتاتی چلوں کہ یہ یوروپین پارلیمنٹیرینز کا کوئی آفیشل وزٹ نہیں ہے یہ لوگ مودی گورنمنٹ کے بُلاوے پر آئے ہیں۔

اس وزٹ کو مادی شرما جو کہ بزنس بروکر ہیں اُنہوں نے منعقد کروایا ہے۔ تمام پارلمینٹرینز کا تعلق رائٹ ونگ سے ہے۔ چلیں ان میں سے کچھ کا تعارف کرواتی ہوں تاکہ آپ لوگوں کو تھوڑا اندازہ ہو کہ یہ ایم پی کس نظریہ کے حامل ہیں اور یہ عملی زندگی میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

تین دن پہلے آپ نے سُنا ہو گا کہ فرانس میں ایک مسجد پر اٹیک ہوا جس میں دو اسی سالہ افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان دونوں افراد کا تعلق اُسی پارٹی سے ہے جس کے پانچ ممبرانِ اسمبلی اس وقت دورہِ کشمیر پر مامور ہیں مودی گورنمنٹ کی طرف سے۔ اور ان سب کا تعلق نیشنل ریلی کمپین سے ہے۔

ان پانچ ممبرز کے نام درج زیل ہیں۔ ۱- جولی لیکھنٹکس ۲- میکذتے پرباکاس۔ ۳- ورجینیے جوران۔ ۴- فرینس جیمٹ ۵- نکولاس بے۔ یہ تمام لوگ فرانس میں مسلمان امیگریشن کے خلاف ہیں خصوصاً جو عرب اور افریقہ کے مسلمان ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انکی پارٹی کا موقف ہے کہ پردے پر پابندی لگائی جائے اور فرانس میں نقاب پر پابندی لگانے کی کمپین چلانے کا سہرا بھی اسی پارٹی کے سر جاتا ہے۔

سن دوہزار اٹھارہ میں الجزیرہ نیوز کی انویسٹیگیشن ٹیم نے اس بات کی کھوج لگائی تھی کہ نیشنل ریلی اور یورپ میں موجود اسلام مخالف تنظیمیں جوکہ یورپ سے مسلمانوں کی بے دخلی کے لیئے سرگرم عمل ہیں کے آپس میں روابط ہیں۔

اس کے بعد انگلینڈ سے شامل ہونے والے چار ممبرز پر نظر ڈالتے ہیں۔
۱- ڈیویژن ریچرڈ بُل ۲- ایلکزینڈر فیلپس ۳- جیمز ویلز ۴- ناتھن گِل ۔ ناتھن گِل فاونڈرہیں Nigel faraz’s New Brexit pary اور ان کا خاصہ ہے مسلمانوں کے خلاف اشتعال اور نفرت انگیز بیانات اور تبصرے کا کھل کر اظہار کرنا۔ اٹلی سے ایک ممبر جیانس جینسیا شامل ہیں جو لیگا نارڈ سے منسلک ہیں اور انکی پارٹی تارکینِ وطن کے خلاف نفرت اور اینٹی امیگرنٹ کمپین کے لیئے مشہور ہے۔

بیلجیم سے ٹام وینڈن ڈریشے جن کا تعلق Vlaams Belang سے ہے اور ان کی پارٹی خود کو بہت بڑا اسرائیلی حمایتی تصور کرتی ہے اور ان کے مطابق یہ پارٹی اسرائیل کے ساتھ مل کر ریڈیکل اسلام مختلف کمپین میں ایک دوسرے کے اتحادی ہیں۔

جرمن کی دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیم اے ڈی ایف سے دو ممبر شامل ہیں جن کے نام برین ہارڈ زمنوئیک اور لارس پیٹرک برگ ہے یہ بھی مسلمانوں کے اور تارکینِ وطن مہاجرین کے خلاف جرمنی میں سرگرم ہیں۔

سپین VOX سے ہیر من ٹارٹش شامل ہیں جہنوں نے سپین سے دس ہزار مسلمان مہاجرین کو ملک بدر کروایا۔ اب پولنگ سے تعلق رکھنے والے چار پارلیمنٹیرینز کے ناموں پر نظر ڈالتے ہیں۔ ۱۔ کوسوموزولوٹووسکی ۲۔ بوگڈن ریزونس ۳- جوونا کوپسنسکا ۴- گرزیگورز توبووسکی اور ان سب کا تعلق لاء اینڈ جسٹس سے ہے۔ ان کی تنظیم پی آئی ایس پولینڈ میں مہاجرین کے خلاف ایک شرمناک پرپگنڈہ میں مصروفِ عمل ہیں اور انکی تنظیم کے نظریات کے مطابق مہاجرین اپنے ساتھ انفکشن اور بیماریاں لے کر آئیں گے جو ہمارے لوگوں میں پھیل سکتی ہیں۔

یہ تو ان ممبر پارلیمنٹس کا ان کے اپنے ممالک میں سیاسی کردار ہے جو کہ مودی جی سے کافی ملتا جُلتا ہے۔ جیسے مودی جی اپنے ملک میں فاشسٹ، نسل پرست اور انتہا پسندی کے لیئے جانے ہیں ویسے ہی یہ ممبر پارلیمنٹس نے اپنے ملک میں دوسری اقوام کے خلاف نفرت اور نسل پرستی کو ہوا دی ہے۔ اب اس بات کی طرف آتے ہیں کہ یہ دورہ کیوں رکھا گیا؟ تو اس کا جواب دُنیا کا کوئی بھی انسان دے سکتا ہے۔

کشمیر میں ہنوز کرفیو نافذ ۔ مواصلاتی نظام سے لے کر تعلیمی اور معاشی نظام سب کچھ کشمیر میں درہم برہم ہے۔ بیرونِ ملک کشمیری اپنی فیملیز سے رابطے کے لیئے ہر دم پریشان ہیں۔ ہسپتالوں اور میڈیکل سٹورز کی حالتِ زار قابل دید ہے۔

اُوپر سے مودی گورنمنٹ نے تمام لوکل ، نیشنل اور انٹرنیشنل میڈیا پر کشمیر کے اندر رپورٹنگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ بینالاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں پر بھی انڈیا کی جانب سے پابندی عائد ہے اور اتنی پابندیوں میں گنے چُنے افراد کو کشمیر لے جا کہ اپنی آرمی کے ہائی آفیشلز اور پنچائت کے ممبرز سے اُنکی ملاقات کروا رہی ہے جبکہ اُسی موقع پر کشمیر کے اندر سری نگر میں شدید قسم کے مظاہرے ہو رہے ہیں اور مختلف علاقوں سے پتھر بازی کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

اسی اثناء میں یو این کا کشمیریوں کے حقوق بحال کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا اور یوروپین پارلیمنٹ کی ان ستائیس ممبر پارلیمنٹس کے دورہ کشمیر سے لاتعلقی کا اعلان بھی سامنے آیا ہے۔اس ای میل کو دیکھ کر واضح ہو جائے گا کہ یہ وزٹ کن بنیادوں پر کروایا جا رہا ہے اور وہیں انڈین میڈیا کا پراپگنڈہ اسے مودی کی جیت تصور کر کے دنُیا کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے-

راہول گاندھی کی ٹویٹ مودی گورنمنٹ پر کشمیر کے اندرونی حالات کو لیکر حکومت مخالف سوال کھڑے کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ راحُل گاندھی کو چوبیس اگست کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیجا گیا تھا اور سینٹرل گورنمنٹ کی طرف سے اُنھیں کشمیر میں عام لوگوں سے ملنے کی اجازت تو دُور اُنھیں ایئرپورٹ سے باہر آنے کی بھی اجازت نہ ملی تھی۔

وہیں اگر ہم دیکھیں کہ کانگریس کے ایک اور ایکٹیو ممبر پارلیمنٹ غلام نبی آزاد جن کا اپنا تعلق بھارتی زیر انتظام جموں کشمیرسے ہے اُنہیں بھی ایئرپورٹ سے واپس دہلی بھیجا گیا مگر وادی میں جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ جب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور انڈیا کی سیاسی سماجی اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کشمیر میں جانے کی اجازت نہیں رکھتیں

وہیں ان حالات میں ممبر پارلیمنٹس کو زاتی حیثیت میں کشمیر بُلانا اور وہ بھی اُس دن جس دن کشمیر میں میڑک کا پہلا پیپر تھا اس کا مقصد تو ان لوگوں کو تعلیمی اداروں کی سیر کروانا ہے تاکہ انہیں باور کروایا جائے کےکشمیر میں تعلیمی نظام بالکل ٹھیک چل رہا ہے۔ امتحانات اپنے وقت پر ہو رہے ہیں جبکہ دنیا جانتی ہے جہ چھیاسی دن سے سکول، کالج اور یونیورسٹیاں بند پڑی ہیں۔

کیونکہ والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنے بچے سکول بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔ ہم ڈرتے ہیں کیونکہ انٹرنیٹ فون سب بند ہے تو ہم اپنے بچوں کی خیریت کیسے دریافت کریں گے؟ خود سوچیئے جن بچوں نے چھیاسی دن سے سکول کی شکل بھی نہ دیکھی ہو۔ انٹرنیٹ بھی پڑھائی کے لیئے میسر نہ ہو۔ استاتذہ سے رابطہ نہ ہو اور ٹیوشن سینٹرز بھی بند ہوں تو ایسے میں بچے کیا امتحانات دیں گے۔

اُس پر سونے پر سہاگہ یہ کہ آج پہلے دن ہی امتحانی سینٹر پر نامعلوم افراد کی طرف سے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ اب ایس میں والدین کا خوف زدہ ہونا تو بنتا ہے –اس کے ساتھ ہی پانچ نان لوکل مزدور مار دیئے گئے۔ اتنے کڑے کرفیو میں نامعلوم افراد آتے ہیں اور لوگوں کو مار کر چلے جاتے ہیں۔

یہ سب ڈرامہ مودی گورنمنٹ کا خود کا رچایا ہوا ہے تاکہ دُنیا کو دکھایا جائے کہ کشمیر میں دہشتگرد موجود ہیں مگر حقیقت میں دہشتگردی کو ہوا سینٹرل گورنمنٹ دے رہی ہے اور اُن کے پیادے خاکی وردی میں سینٹر کا پروپگنڈہ کامیاب بنانے میں سرگرم ہیں اور میڈیا اس میں زہریلی باتوں کی ملاوٹ کر کے دنیا کو کشمیریوں کے دہشتگرد ہونے کا ثبوت بنا کہ پیش کر رہی ہے۔

کہتے ہیں جسکی لاٹھی اُسکی بھینس ، جس کے ہاس طاقت ہے اُسی کی سُنی جاتی ہے۔ اور انڈیا کی سُنی جا رہی ہے اور کشمیری بے آواز بے زبان اور ان ہر ڈھائے جانے والے ظلم بے نشان۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ممبر پارلیمنٹس کس طرح مودی گورنمنٹ کے پراپگنڈہ کو یوروپین پارلیمنٹ میں اور یورپ میں پیش کریں گے۔

ظاہر ہے اتنی خاطر کے بعد مودی جی کے حق میں دو شبد تو بولیں گے ہی۔اگر مودی جی کو لگتا ہے کہ ایسے وہ کشمیریوں کے دل جیت سکتے ہیں تو وہ بے وقوفوں کی جنگ میں رہ رہے ہیں۔

.

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے