جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے شرکا نے جس نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، آئین و قانون کی پاسداری کی ہے اس کی وجہ سے پوری دنیا آپ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ امریکا میں ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد مغربی دنیا میں مذہبی طبقے کی بھیانک تصویر پیش کی گئی تھی آج آزادی مارچ نے 18 سالوں کے غلط پروپیگنڈوں اور منفی تاثرات کا خاتمہ کردیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ آج دنیا نے تسلیم کرلیا ہے کہ ہم  پرامن، منظم، اور انسانیت کے قدردان بھی ہیں اور خواتین کو وہ احترام بھی دینا جانتے ہیں جو ڈی چوک پر رنگ رلیاں منانے والے نہیں جانتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ آپ چاہے مذہبی لوگ ہیں لیکن انسانیت آپ سے مطمئن ہے، آپ سے اسلام آباد کا کوئی شہری پریشان ہوا نہ ہی راستے میں کسی کو آپ سے تکلیف ہوئی۔

مولانا فضل الرحمٰں نے کہا کہ پورے ملک سے کنٹینر اور پولیس منگوائی گئی ہے جس پر پاکستان کے خزانے سے نہ جانے کتنے پیسے خرچ ہورہے ہیں، کوئی تو اس کا احتساب کرے۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ہم دنیا کو امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں، ہم نے ماضی میں 15 ملین مارچ کیے جو پرامن تھے، لیکن اب اگر امن خراب ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ ساری زندگی ہم نے یہی دیکھا کہ ایک خوف کا مفروضہ قائم کرکے اس قوم کو بلیک میل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کے کیس کو خارج کرنے کے لیے ساٹھ درخواستیں دائر کی گئیں اور تمام ہی درخواستیں مسترد کردی ہوئیں۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ نے کہا کہ ریجیکٹڈ وزیراعظم کی ہمشیرہ نے دبئی کے بینکوں میں 60 ارب کا سرمایہ کیسے جمع کیا؟ وہ کہاں سے آیا؟ تم نے تو اپنی وزارت کی مدد سے 60 ارب ڈالر کا غبن چھپانے کی کوشش کی ہے اور یہ ہے وہ این آر او جو آپ نے اپنی بہن کو دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اسی وجہ سے کہتا ہوں کہ وہ کونسی قوت ہے جس نے دھاندلی کی مدد سے اقتدار کی کرسی تک پہنچایا وہ کونسی لابی ہے جس نے پاکستان کے نوجوان اور ماؤں بہنوں کو گمراہ کرکے اس نااہل سے قوم کی امیدیں وابستہ کروائیں۔

جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ میں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے بڑی تسلی قوم کو دے دی ہے کہ فوج غیر جانب دار ادارہ ہے اور وہ غیر جانب دار رہنا چاہتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کے بعد مارچ کے دوران پاک فوج زندہ باد اور اسلام زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ کو وہ دن بھی یاد ہوگا جب پاک فوج نے بھارتی طیارے مار گرائے تھے اس کا پائلٹ پکڑا تھا تو جمعیت علماء اسلام کے کارکنان نے ہی پورے پاکستان میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گلا اپنوں سے ہی ہوتا ہے، گلے شکوے اپنائیت کی علامت ہوتی ہے دشمنی کی علامت نہیں ہوتی۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس اجتماع کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو، اس کو سنجیدہ لو ہم وہ لوگ ہیں جب ساری دنیا مذہبی طبقے کو اشتعال دلا رہی تھی اور مذہبی دنیا کا نوجوان اسلحہ اٹھا رہا تھا تو ہم نے اس کے کاندھے سے بندوق اتار کر اس کے ہاتھ میں ووٹ کی پرچی تھمائی اور آئینی راستہ دکھایا۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم نے یہ سفر جرت، غیرت، ہمت و استقامت کے ساتھ یہاں تک پہنچادیا ہے، اب استعفے سے کم پر بات نہیں ہوگی۔

0 replies

Leave a Reply

Want to join the discussion?
Feel free to contribute!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے